حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 508
حیات احمد ۵۰۸ جلد چهارم نجاست کے مانند ہیں۔اس میں سلطان کی بہت بے ادبی ہوئی یہ ایک دوسری حماقت ہے۔بے شک دنیا خدا کے نزدیک مُردار کی طرح ہے اور خدا کو ڈھونڈنے والے ہرگز دنیا کو عزت نہیں دیتے یہ ایک لاعلاج بات ہے جو روحانی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جاتی ہے کہ وہ سچی بادشاہت آسمان کی بادشاہت سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کے آگے سجدہ نہیں کر سکتے۔البتہ ہم ہر ایک منعم کا شکر کریں گے۔ہمدردی کے عوض ہمدردی دکھلائیں گے۔اپنے محسن کے حق میں دعا کریں گے۔عادل بادشاہ کی خدا تعالیٰ سے سلامتی چاہیں گے گو وہ غیر قوم کا ہومگر کسی سفلی عظمت اور بادشاہت کو اپنے لئے بت نہیں بنائیں گے۔ہمارے پیارے رسول سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ إِذَا وَقَعَ الْعَبْدُ فِي الْهَانِيَّةِ الرَّبِّ وَمُهَيْمَنِيَّةِ الصِّدِّيقِيْنَ وَرَهْبَانِيَّةِ الْأَبْرَارِ لَمْ يَجِدْ اَحَدًا يَأْخُذُ بِقَلْبِهِ یعنی جب کسی بندہ کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کی محبت بیٹھ جاتی ہے اور خدا اس پر محیط ہوجاتا ہے جیسا کہ وہ صدیقوں پر محیط ہوتا ہے اور اپنی رحمت اور خاص عنایت کے اندر اس کو لے لیتا ہے۔اور ابرار کی طرح اُس کو غیروں کے تعلقات سے چھوڑا دیتا ہے تو ایسا بندہ کسی کو ایسا نہیں پاتا کہ اس کی عظمت یا و جاہت یا خوبی کے ساتھ اس کے دل کو پکڑ لے۔کیونکہ اُس پر ثابت ہو جاتا ہے کہ تمام عظمت اور وجاہت اور خوبی خدا میں ہی ہے پس کسی کی عظمت اور جلال اور قدرت اس کو تعجب میں نہیں ڈالتی اور نہ اپنی طرف جھکا سکتی ہے۔سو اُس کو دوسروں پر صرف رحم باقی رہ جاتا ہے خواہ بادشاہ ہوں یا شہنشاہ ہوں۔کیونکہ اُس کو ان چیزوں کی طمع باقی نہیں رہتی جو ان کے ہاتھ میں ہیں۔جس نے اُس حقیقی شہنشاہ کے دربار میں بار پایا جس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے پھر فانی اور جھوٹی بادشاہی کی عظمت اس کے دل میں کیونکر بیٹھ سکے؟ میں جو اُس ملیک مقتدر کو پہچانتا ہوں تو اب میری روح اس کو چھوڑ کر کہاں اور کدھر جائے یہ روح