حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 507
حیات احمد سے مانگا۔“ ۵۰۷ جلد چهارم آخر میں آپ نے بزرگ موصوف کو خطاب کیا کہ اور بزرگ مذکور جس نے ہماری پردہ دری کے لئے پیشگوئی کی اس بات کو یاد رکھے کہ ہماری طرف سے اس میں کچھ زیادت نہیں۔انہوں نے پیشگوئی کی اور ہم نے بد دعا کی۔آئندہ ہمار اور ان کا خدا تعالیٰ کی جناب میں فیصلہ ہے۔اگر اُن کی رائے کچی ہے تو ان کی پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔اور اگر جناب الہی میں اس عاجز کی کچھ عزت ہے تو میری دعا قبول ہو جائے گی تاہم میں نے اس دعا میں یہ شرط رکھ لی ہے کہ اگر بزرگ مذکور قادیان میں آکر اپنی بیبا کی سے ایک مجمع میں تو بہ کریں تو خدا تعالیٰ یہ حرکت ان کی معاف کرے ورنہ اب عظیم الشان مقدمہ مجھ میں اور اس بزرگ میں دائر ہو گیا ہے اب حقیقت میں جو روسیاہ ہے وہی روسیاہ ہوگا۔اس بزرگ کو روم کے ایک ظاہری فرمانروا کے لئے جوش آیا اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ پر تھوکا۔اور اُس کے مامور کو پلید قرار دیا۔حالانکہ سُلطان کے بارے میں میں نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا۔صرف اس کے بعض ارکان کی نسبت بیان کیا تھا۔اور یا اس کی گورنمنٹ کی نسبت جو مجموعہ ارکان سے مراد ہے۔ملہمانہ خبر تھی۔سلطان کی ذاتیات کا کچھ بھی ذکر نہ تھا۔پھر بھی اُس بزرگ نے وہ شعر میری نسبت پڑھا کہ شاید مثنوی کے مرحوم مصنف نے نمرود اور شداد اور ابوجہل اور ابولہب کے حق میں بنایا ہوگا۔اور اگر میں سلطان کی نسبت کچھ نکتہ چینی بھی کرتا تب بھی میرا حق تھا کیونکہ اسلامی دنیا کے لئے مجھے خدا نے حکم کر کے بھیجا ہے جس میں سلطان بھی داخل ہے۔اور اگر سلطان خوش قسمت ہو تو یہ اس کی سعادت ہے کہ میری نکتہ چینی پر نیک نیتی کے ساتھ توجہ کرے۔اور اپنے ملک کی اصلاحوں کی طرف جد وجہد کے ساتھ مشغول ہو۔اور یہ کہنا کہ ایسے ذکر سے کہ زمین کی سلطنتیں میرے نزدیک ایک