حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 506
حیات احمد جلد چهارم اور وہ یہ کہ جب یہ اخبار چودھویں صدی میرے روبرو پڑھا گیا تو میری روح نے اُس مقام میں بددعا کے لئے حرکت کی جہاں لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار ( یعنی اس عاجز کا اشتہار پڑھا تو بے ساختہ ان کے منہ سے یہ شعر نکل گیا سے چوں خدا خواهد که پرده گس دَرد میلش اندر طعنه پاکان برد میں نے ہر چند اس روحی حرکت کو روکا اور دبایا اور بار بار کوشش کی کہ یہ بات میری روح میں سے نکل جائے مگر وہ نہ نکل سکی۔تب میں نے سمجھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔تب میں نے اُس شخص کے بارے میں دعا کی جس کو بزرگ کے لفظ سے اخبار میں لکھا گیا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ وہ دعا قبول ہوگئی اور وہ دعا یہ ہے کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ میں کذاب ہوں اور تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے ملعون اور مردود ہوں اور کاذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں تو میں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ہلاک کر ڈال اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں اور مسیح موعود ہوں تو اُس شخص کے پردے پھاڑ دے جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے۔لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیان آکر مجمع عام میں تو بہ کرے تو اسے معاف فرما کہ تو رحیم وکریم ہے۔یہ دعا ہے کہ میں نے اُس بزرگ کے حق میں کی مگر مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ بزرگ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں اور کس مذہب اور قوم کے ہیں جنہوں نے مجھے کذاب ٹھہرا کر میری پردہ دری کی پیشگوئی کی۔اور نہ مجھے جاننے کی کچھ ضرورت ہے مگر اس شخص کے اس کلمہ سے میرے دل کو دکھ پہنچا اور ایک جوش پیدا ہوا تب میں نے دعا کر دی اور یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے یکم جولائی ۱۸۹۸ء تک اس کا فیصلہ کرنا خدا