حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 500
حیات احمد جلد چهارم جلالی نشان کا مظہر ہے اسے تمام و کمال حاشیہ میں درج کر دیا جاتا ہے۔اشتہار مذکور پر طوفان مخالفت اور ایک بزرگ میدان میں اس اشتہار کا شائع ہونا تھا کہ ایک طوفان بے تمیزی مخالفت میں پیدا ہو گیا اور اخبارات میں ہر قسم کے سب وشتم کا مظاہرہ کیا گیا۔عوام کو یہ کہہ کر ورغلایا گیا کہ سلطان روم جو بقیہ حاشیہ۔ہونے کے اُس کے اجازت دینے کے لئے مجبور کیا۔نامبردہ نے خلوت کی ملاقات میں سلطان روم کے لئے ایک خاص دعا کرنے کے لئے درخواست کی اور یہ بھی چاہا کہ آئندہ اُس کے لئے جو کچھ آسمانی قضاء قدر سے آنے والا ہے اس سے وہ اطلاع پاوے۔میں نے اُس کو صاف کہدیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے۔اور میں کشفی طریق سے اُس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا۔اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بُری معلوم ہوئیں۔میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے تو بہ کروتا نیک پھل پاؤ۔مگر میں اس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی بُر اما نتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں۔اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کی علامات موجود ہیں۔ماسوا اس کے میرے دعوی مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان آئیں۔میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کا انتظار کرنا جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں اس کے ساتھ میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا وہی کہا تھا۔اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے میں نے اُس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفا دار اور دلی شکر گزار ہیں کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ امن حاصل ہو سکے کیا میں اسلام بول میں امن کے ساتھ اس دعویٰ کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور یہ کہ تلوار چلانے کی سب روایتیں جھوٹ ہیں۔کیا یہ سن کر اُس جگہ کے درندے مولوی اور قاضی حملہ نہیں کریں گے اور کیا سلطانی انتظام بھی تقاضا نہیں کرے گا کہ اُن کی مرضی کو