حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 41 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 41

حیات احمد جلد چهارم میاں عبدالخالق صاحب بھی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں مشہور تھے وہ ایک شریف کشمیری خاندان کے فرد تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب جن ایام میں رفوگری کا کام کرتے تھے اُس وقت میاں عبدالخالق صاحب اُن کے من وجہ استاد تھے۔ان کی طبیعت میں جوش اور جولائی تھی وہ کسی سے دیتے نہ تھے۔آخر میں انہوں نے رفوگری کا پیشہ ترک کر کے عطاری کی دوکان کر لی تھی اور وہ شیخ بڈھا کی مسجد کے پاس رکھی جو احمدیت کے خلاف ایک مرکز تھا۔اور وہاں کے نوجوانوں کی ٹولیاں اپنی دلیری اور بے جگری میں مشہور تھیں۔مگر یہ مرد خدا تنہا وہاں رہتا اور احمدیت کے متعلق مباحثہ کرتا۔ان ایام میں بڑا مسئلہ وفات مسیح ہی تھا۔میاں عبد الخالق بڑے زور اور جوش سے بحث کرتے۔اُن کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجہ میں بعض تعلیم یافتہ نوجوان سلسلہ میں داخل ہوئے جن میں سے مرحوم میاں امیرالدین صاحب رضی اللہ عنہ (اگر میں ان کے نام میں غلطی نہیں کر رہا) سلسلہ میں داخل ہوئے۔یہ دفتر وکیل کے شعبہ قانونی میں ترجمہ کا کام کرتے تھے۔اس فن میں ماہر تھے۔اور وہ چوک فرید میں ایک معزز اور بااثر آدمی تھے۔غرض عبد الخالق صاحب بھی اپنی سرگرمیوں میں ممتاز تھے۔قتل کے کچھ عرصہ بعد مارچ کے تیسرے ہفتہ میں یکا یک مجھے دفتر وکیل میں بلایا گیا۔مشہور پولیس آفیسر رانا صاحب ( جلال الدین خاں صاحب) اس تفتیش کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔میں جب وہاں پہنچا تو ان کے سامنے پیش کیا گیا وہ خفیہ طور پر تفتیش کر رہے تھے۔میرے ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ یہ ہے۔انہوں نے مجھ سے میرے احمدی ہونے اور قادیان آنے جانے کے متعلق سوالات کے سلسلہ میں دریافت کیا کہ امرتسر میں کون کون مشہور احمدی ہیں (اس وقت مرزائی کا لفظ بولا جاتا تھا) اور اس سلسلہ میں میاں عبد الخالق کے متعلق انہوں نے کچھ لمبا سلسلہ سوالات کا جاری رکھا۔میں نے ان کو بتایا کہ ہم لوگ کچھ مخفی تو نہیں ہیں۔ہماری عام مخالفت ہے سب جانتے ہیں میاں عبدالخالق صاحب ایک شریف، نیک، غریب محنت سے روٹی کمانے والا انسان ہے۔چوک فرید کے لوگ باوجود اُس