حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 497 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 497

حیات احمد ۴۹۷ جلد چهارم کی تائید۔حضرت مولوی غلام احمد اختران ایام میں وہاں موجود تھے اور ان کو خطرہ تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب اپنی بلیس ابلیس میں کامیاب نہ ہو جا ئیں یہ خطرہ اس لئے نہ تھا کہ اس سے سلسلہ کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس وجہ سے کہ ان کو حضرت خواجہ صاحب سے جو ارادت تھی اس کا تقاضا تھا کہ حضرت خواجہ صاحب کے کسی جدید بیان سے ان کی شان میں نقص نہ پیدا ہو۔حضرت خواجہ صاحب نے ان کو پریشان پا کر فرمایا کہ آپ فکر نہ کریں میں اس کو خوبصورتی سے ٹلا دوں گا۔حضرت خواجہ صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب کے فتویٰ اور مباحثات کے سلسلہ میں فرمایا کہ ہم لوگ علمائے ظاہر کے طرز پر مباحثات اور فتاویٰ سے کام نہیں رکھتے آپ نے اپنا فرض تبلیغ ادا کر دیا۔“ جب مولوی محمد حسین مباحثہ یا فتویٰ پر دستخط کے لئے زور ہی دیتا رہا اور آپ خاموشی سے سنتے رہے اُس کی ضد اور طول کلامی سے منغض ہو کر اٹھ کر چلے گئے اور کچھ روپیہ اپنے ایک مرید خاص کے ہاتھ مولوی محمد حسین کو بھیج دیئے۔یہ گویا اُن کو رخصت کر دینے کا ایما تھا۔اور مولوی محمد حسین ناکام واپس آگئے۔اور اپنے مشن میں گونا کام رہے مگر سفر کے دام وصول ہو گئے۔