حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 495 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 495

حیات احمد ۴۹۵ جلد چهارم بات زبان سے نکالتے۔آپ نے لکھا کہ اگر چہ میں عدیم الفرصت تھا تاہم میں نے اس کتاب کی ایک جز کو جوحُسنِ خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھی پڑھی ہے۔سواے ہر ایک حبیب سے عزیز تر تجھے معلوم ہو کہ میں ابتدا سے تیرے لئے تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو۔اور کبھی میری زبان پر بجر تعظیم وتکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔( الى الآخر) (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۸۹) اس کے بعد حضرت اقدس اور حضرت خواجہ صاحب کے درمیان تبادلہ ء مراسلات ہوا۔اور حضرت نے تفصیل کے ساتھ اپنے دعاوی اور خواجہ صاحب کے مقام اتقا کا تذکرہ فرمایا اور فارسی اشعار میں اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔اے فرید وقت در صدق وصفات با تو باد آن رو که نام أو خدا ازل تو بارد رحمت یار از ا در تو تا بد نور دلدار ازل از تو جانِ من خوش ست اے خوش خصاله دیدمت مردے دریں قحط الرجال اے مرا روئے محبت سوئے بوئے اُنس آمد مرا از کوئے تو ابتر جمہ۔اے صدق وصفا میں اس زمانہ کے یگانہ انسان تیرے ساتھ وہ ذات ہو جس کا نام خدا ہے۔تجھ پر اُس یار قدیم کی رحمتوں کی بارش ہوا اور تجھے میں اس محبوب از لی کا نور چمکتا رہے۔سے اے نیک خصلت انسان تجھ سے میری جان راضی ہے اس قحط الرجال میں میں نے تجھ کو ہی ایک مرد پایا ہے۔سے اے وہ کہ میری محبت کا رخ تیری طرف ہے مجھے تیرے کوچہ سے انس کی خوشبو آتی ہے۔