حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 486 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 486

حیات احمد ۴۸۶ جلد چهارم لیکن حضرت اقدس نے فارسی اشتہار میں ایک لطیف جواب بھی دیا تھا کہ یہ سوال یا تو بقیہ حاشیہ۔پس اگر فرض کنیم کہ وعدہ موت ہنوز بظهور بقیہ حاشیہ۔پس اگر چہ یہ فرض کریں کہ وعدہ موت ابھی نیامده است و حضرت عیسی علیه السلام تا ایں وقت زندہ ظہور میں نہیں آیا ہے اور عیسی علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں است۔پس بر ما واجب می شود که این ہم قبول کنیم که پس ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم یہ بھی قبول کرلیں کہ نصاری نصاری ہم تا ہنوز بر صراط مستقیم هستند و گمراه نشد هاند - ابھی تک صرا مستقیم پر ہیں اور ابھی تک گمراہ نہیں ہوئے ہیں۔کیونکہ مذکورہ آیت میں عیسائیوں کی گمراہی موت زیر انکه در آیت موصوفہ گمراہی عیسائیاں را بموت مسیح عیسی سے وابستہ ہے۔پس جب تک عیسی علیہ السلام مردہ وابسته کرده اند۔پس تا وقتیکه عیسی نمرده باشد عیسا ئیں را نہیں ہوں گے عیسائیوں کو کس طرح گمراہ کہا جاسکتا ہے چگونه گمراه تو اں گفت۔عجب است از عقل علماء قومِ ما علماء اور قوم کی عقل پر تعجب ہے کہ ہماری قوم اس آیت کی کہ بوئے ایس آیت توجه نمی کنند و نصوص صریحه را می طرف توجہ نہیں کرتے اور نصوص صریحہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور گزارند وا و هام را مذهب خود می گیرند - اوہام کو اپنے مذہب کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔غرض مردن عیسی علیہ السلام از نصوص قرآنیه و حدیثیه الغرض عیسی علیہ السلام کی وفات نصوص قرآنیہ اور حدیثوں ثابت است و هیچ کس را مجال انکار نیست بجز آں سے ثابت ہے اور کسی شخص کو انکار کی جرأت نہیں ہے سوائے صورت که از قرآن وحدیث رو بگرداند یا معنی آیت اس کے کہ وہ قرآن وحدیث سے روگردانی کرے اور اس بطور تفسیر بالرائے کند۔و ہر چند دربارہ لفظ تو فی اتفاق آیت کے معنے تفسیر بالرائے کے ساتھ کرلے اور اگر چہ لفظ اہل لغت بر ہمیں قاعدہ مستمره است که چون در عبارتے توفی کے معنوں پر اہل لغت کا اتفاق ہے اور اس قاعدہ مستمرہ کے مطابق ہیں کہ جب کسی عبارت میں اس لفظ کا فاعل خدا فاعل ایں لفظ خدا باشد و مفعول به انسانی از انسان بادر ہو اور مفعول کوئی انسان انسانوں میں سے ہو تو اس صورت آن صورت معنی تو قی در میرانیدن محصور خواهد بود و بجز میں توقی کے معنے مارنے میں محصور ہوں گے۔اور سوائے میرانیدن و قبض روح معنی دیگر در آنجا هرگز نخواهد بود۔مارنے اور قبض روح کے کوئی دیگر معنی اس جگہ نہیں ہوں گے۔لیکن مادر اینجا ضرور تے وحاجتے نمی داریم کہ سوئے لیکن اس جگہ ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم عرب کی لغت کی کتب کتب لغت عرب رجوع کنیم۔مارا در میں مقام حدیث کی طرف رجوع کریں۔ہم اس جگہ حدیث آنحضرت صلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وقول ابن عباس کہ آن ہر ا اللہ علیہ وسلم اور ابن عباس کے قول کو صحیح بخاری میں پاتے ہر دو در صحیح بخاری موجود اند کافی است و ما خوب می دانیم کہ ہی۔اور یہ دونوں کافی ہیں۔اور ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی ہر کہ از گفته رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کند او منافقے قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتا ہے وہ منافق باشد نہ مومنے۔پس چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا نہ کہ مومن۔پس چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے