حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 474
حیات احمد ۴۷۴ جلد چهارم وہ تکلیف اٹھائی کہ بیچارے شیخ بطالوی کو بھی نہ سوجھی تو یہ کذب تو ایک ادنی بات ہے۔جَزَاكَ الله !! اق میرزا غلام احمد قادیانی ۲۰ / شعبان ۱۳۱۴ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱ تا ۴۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱ تا ۳ طبع بار دوم ) نوٹ۔طباعت کی غلطی سے ۲۰ شعبان تاریخ درج ہے دراصل ۲۱ شعبان ۱۳۱۴ھ مطابق ۲۵ فروری ۱۸۹۷ء ہے۔اس موت کے پیالہ کو مولوی صاحب نے اس وقت تو اس حیلہ سے ٹلا دیا مگر آخر آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔مولوی غلام دستگیر صاحب نے فَتْحِ رَحْمَانِی کے نام سے ایک کتاب ۱۳۱۵ ہجری یعنی ۱۸۹۷ء کے اواخر کے قریب شائع کی اور اس کے صفحہ ۲۶ ۲۷ پر لکھا کہ اللَّهُمَّ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا مَالِكَ الْمُلْكِ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا۔( جوان کے نزدیک کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا ) ویسا ہی دعا اور التجا اِس فقیر قصوری گانَ اللهُ لَہ کی ہے ( جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے ) مرزا قادیانی اور اُس کے حواریوں کو تو به نصوح کی توفیق رفیق عطا فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَ بِالْإِجَابَةِ جَدِيْرٌ آمين یعنی جو ظالم ہے وہ جڑ سے کاٹے جائیں گے اور خدا کے لئے حمد ہے تو ہر چیز پر قادر ہے اور دعا قبول کرنے والا ہے۔پھر اسی کتاب کے صفحہ ۲۶ پر یہ بھی لکھا تَبَّالَهُ وَلَا تُبَاعِهِ۔یعنی وہ اور اس کے پیرو ہلاک ہو جائیں۔