حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 464
حیات احمد ۴۶۴ جلد چهارم یہ ہیں ہمارے اعتقاد اور ہم ان ہی عقائد پر اللہ تعالیٰ کے پاس جائیں گے اور ہم بچے ہیں تحقیق خدا تعالیٰ تمام عالم پر فضل کرنے والا ہے اس نے اپنے ایک بندہ کو اپنے وقت پر بطور مجدد پیدا کیا ہے کیا تم خدا کے کام سے تعجب کرتے ہو۔اور وہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔اور نصاری نے حیات مسیح کے سبب فتنہ برپا کیا۔اور کفر صریح میں گر گئے۔پس خدا نے ارادہ کیا کہ ان کی بنیاد کو گرا دے اور ان کے دلائل کو جھوٹا کرے اور ان پر ظاہر کر دے کہ وہ جھوٹے ہیں۔پس جو کوئی خدا پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کے فضل کی طرف رغبت کرتا ہے پس اسے لازم ہے کہ میری تصدیق کرے اور بیعت کرنے والوں میں داخل ہو۔اور جس نے اپنے نفس کو میرے نفس سے ملایا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کے نیچے رکھا۔اس کو خدا دنیا میں اور آخرت میں بلند کرے گا۔اور اس کو دونوں جہان میں نجات پانے والا بنائے گا۔پس قریب ہے کہ میری اس بات کا ذکر پھیلے اور میں اپنے کام کو اللہ کے سپر د کرتا ہوں۔اور میرا شکوہ اپنے فکر و غم کا کسی سے نہیں سوائے اللہ کے وہ میرا رب ہے میں نے اس پر تو کل کیا ہے وہ مجھے بلند کرے گا اور مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔اور مجھے عزت دے گا اور مجھے ذلت نہیں دے گا۔اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ وہ خطا پر ما پر تھے اور ہماری آخری دعا یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف خدا کے واسطے ہے۔وہ تمام عالموں کا پالنے والا ہے۔الملتمس عبداللہ الصمد غلام احمد ماه شوال ۱۳۱۳ھ نوٹ۔یہ مکتوب کابل کے پہلے شہید حضرت مولوی عبدالرحمان صاحب لے کر گئے تھے۔اس مکتوب کا کوئی جواب امیر کا بل نے نہیں دیا۔جناب خواجہ حسن نظامی صاحب نے ایک دفعہ اپنے اخبار منادی میں اس مکتوب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ امیر کا بل نے جواب دیا تھا کہ اینجا بیا“ اور مقصد یہ تھا کہ کابل میں آکر دعویٰ کرو۔تو نتیجہ معلوم ہو جائے گا جہاں تک میری