حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 461
حیات احمد ۴۶۱ جلد چهارم لیں۔میں میدان میں کھڑا ہوں اور صاف صاف کہتا ہوں کہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔عیسائیوں کے ہاتھ میں ایک مردہ ہے جس کو امتحان کرنا ہو میرے مقابلہ میں آوے۔لعنتی ہے وہ دل جو بغیر مقابلہ کے انکار کرے اور پلید ہے وہ طبیعت جو بغیر آزمائش کے منکر رہے۔اے حق کے طالبو! مردہ پرستی کے مذہب کو جلد چھوڑو کہ عیسائیوں کے ہاتھ میں ایک مردہ ہے۔کیا اُس مردہ میں طاقت ہے کہ میرے مقابلہ میں اپنے کسی پرستار کو طاقت بخشے۔نہیں ہرگز نہیں۔تمام مردے خدا میرے پیروں کے نیچے ہیں۔یعنی قبروں میں۔اور زندہ خدا میرے سر پر ہے۔کوئی ہے پھر میں کہتا ہوں کہ کوئی ہے کہ اس آزمائش میں میرے مقابل پر آوے؟ مردہ پرست کبھی نہیں آئیں گے۔مردار کھائیں گے مگر سچائی کا پھل کبھی نہیں کھائیں گے۔دیکھو زندہ مذہب میں یہ طاقت ہے کہ اس کے پابند آسمانی روح اپنے اندر رکھتے ہیں۔مردوں کو جانے دو زندوں کے ساتھ ہو جاؤ۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى امیر کامل کو دعوت خاکسار میرزاغلام احمد قادیانی ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۸ تا ۱۶۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۷ تا ۴ طبع بار دوم ) امیر عبدالرحمان خاں والی ءِ کا بل کو آپ نے اپریل ۱۸۹۶ء (شوال ۱۳۱۳ھ ) میں ایک مبسوط مکتوب فارسی زبان میں لکھا۔میں نے اس مکتوب کو امیر حبیب اللہ خاں کے سفر ہندوستان ☆ کے موقعہ پر ۱۹۰۷ء میں اخبار الحکم میں شائع کر دیا تھا اور یہ ایک خاص امیر حبیب اللہ خاں کے لئے وقف تھا۔اور گویا بطور نامہ مکشوف کے لکھا گیا تھا۔اس مکتوب میں آپ نے امیر کا بل پر کھلے الفاظ میں اپنے دعوئی کو پیش کیا چنانچہ فرمایا الحکم مورخہ ۷ار فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸ تا ۱۰۔( یہ مضمون فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں ہے ) (ناشر)