حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 462 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 462

حیات احمد ۴۶۲ جلد چهارم اس فقیر کا یہ حال ہے کہ وہ خدا جو بر وقت بہت مفاسد اور گمراہی کے مصلحت عام کے واسطے اپنے بندوں میں سے کسی بندہ کو اپنا خاص بنالیتا ہے تا اس کے ذریعہ گمراہوں کو ہدایت ہو اور اندھوں کو روشنی اور غافلوں کو تو فیق عمل کی دی جائے اور اس کے ذریعہ دین اور تعلیم معارف و دلائل کی تازہ ہو۔اسی خدائے کریم اور رحیم نے اس زمانہ کو زمانہ پُرفتن اور طوفان ضلالت و ارتداد کا دیکھ کر اس ناچیز کو چودہویں صدی میں اصلاح خلق اور اتمام حجت کے واسطے مامور کیا۔چونکہ اس زمانہ میں فتنہ علمائے نصاری کا تھا اور مداوا اس کا صلیب پرستی کو توڑنے پر تھا اس واسطے یہ بندہ درگاہ الہی مسیح علیہ السلام کے قدم پر بھیجا گیا۔تا وہ پیشگوئی بطور بروز پوری ہو جائے جو عوام میں مسیح کے دوبارہ آنے کی بابت مشہور ہے۔“ نصاری کا فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے اور ان کی گندی گالیں اور سخت تو ہین ہمارے رسول کی نسبت علماء نصاری کی زبان و قلم سے اس قدر نکلیں جس سے آسمان میں شور پڑ گیا۔حتی کہ ایک مسکین اتمام حجت کے واسطے مامور کیا گیا۔یہ خدا کی عادت ہے کہ جس قسم کا فساد زمین پر غالب ہوتا ہے اسی کے مناسب حال مجدد زمین پر پیدا ہوتا ہے۔پس جس کی آنکھ ہے وہ دیکھے کہ اس زمانہ میں آتشِ فساد کس قسم کی بھڑ کی ہے اور کون سی قوم ہے جس نے تیر ہاتھ میں لے کر اسلام پر حملہ کیا ہے۔جن کو اسلام کے واسطے غیرت ہے وہ فکر کریں کہ آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط اور آیا یہ ضروری نہ تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر جس میں کہ فتنوں کی بنیاد رکھی گئی چودھویں صدی کے سر پر رحمت الہی تجدید دین کے لئے متوجہ ہوتی ؟ اور اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ کیوں اس عاجز کو مسیح علیہ السلام کے نام پر بھیجا گیا ہے۔کیونکہ فتنہ کی صورت ایسی ہی روحانیت کو چاہتی تھی جبکہ مجھے قوم مسیح کے لئے حکم دیا گیا مصلحتاً میرا نام ابن مریم رکھا گیا۔آسمان سے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور زمین ہے تو