حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 460 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 460

حیات احمد ۴۶۰ جلد چهارم مدد نہیں کر سکتا ہے۔اس اشتہار کے دینے سے اصل غرض یہی ہے کہ جس مذہب میں سچائی ہے وہ کبھی اپنا رنگ نہیں بدل سکتی۔جیسے اوّل ہے ویسے ہی آخر ہے۔سچا مذہب کبھی خشک قصہ نہیں بن سکتا۔سو اسلام سچا ہے۔میں ہر ایک کو کیا عیسائی کیا آریہ اور کیا یہودی اور کیا برہمو اس سچائی کے دکھلانے کے لئے بلاتا ہوں کیا کوئی ہے جو زندہ خدا کا طالب ہے؟ ہم مردوں کی پرستش نہیں کرتے۔ہمارا زندہ خدا ہے۔وہ ہماری مدد کرتا ہے۔وہ اپنے الہام اور کلام اور آسمانی نشانوں سے ہمیں مدد دیتا ہے۔اگر دنیا کے اس سرے سے اُس سرے تک کوئی عیسائی طالب حق ہے تو ہمارے زندہ خدا اور اپنے مردہ خدا کا مقابلہ کر کے دیکھ لے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس باہم امتحان کے لئے چالیس دن کافی ہیں۔افسوس کہ اکثر عیسائی شکم پرست ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ کوئی فیصلہ ہو ورنہ چالیس دن کیا حقیقت رکھتے ہیں۔آتھم کی طرح اس میں کوئی شرط نہیں۔اگر میں جھوٹا نکلوں تو ہر ایک سزا کا مستوجب ہوں۔لیکن دعا کے ذریعہ سے مقابلہ ہوگا۔جس کا سچا خدا ہے بلاشبہ وہ سچا رہے گا۔اس باہمی مقابلہ میں بے شک خدا مجھے غالب کرے گا۔اگر میں مغلوب ہوا تو عیسائیوں کے لئے فتح ہوگی جس میں میرا کوئی جواب نہیں۔اور جو تاوان مقرر ہو اور میری مقدرت کے اندر ہو دوں گا۔لیکن اگر میں غالب ہوا تو عیسائی مقابل کو مردہ خدا سے دست بردار ہونا ہوگا اور بلا توقف مسلمان ہونا پڑے گا۔اور پہلے ایک اشتہار انہیں شرائط کے ساتھ بہ ثبت شہادت وہ کس معزز آدمیوں کے دینا ہوگا۔اس سے روز کا جھگڑا طے ہو جائے گا۔اور اگر اب عیسائیوں نے منہ پھیرا تو اس کا یہی سبب ہوگا کہ ان کو مردہ خدا کی مدد پر بھروسہ نہیں۔افسوس کہ عیسائی بار بار آتھم کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ آتھم الہام کی میعاد میں قبر میں جا پہنچا اور وہ مردہ خدا اُس کو بیچا نہ سکا کیونکہ مردہ مردہ کو مدد نہیں دے سکتا۔جو معقول شرط چاہیں مجھ سے کر