حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 459
حیات احمد ۴۵۹ جلد چهارم مردہ مذہب نہ ہو بلکہ جن برکتوں اور عظمتوں کی ابتدا میں اس میں تخم ریزی کی گئی تھی وہ تمام برکتیں اور عظمتیں نوع انسان کی بھلائی کے لئے اس میں اخیر دنیا تک موجود رہیں تا موجودہ نشان گزشتہ نشانوں کے لئے مصدق ہو کر اس سچائی کے نور کو قصے کے رنگ میں نہ ہونے دیں۔سو میں ایک مدت دراز سے لکھ رہا ہوں کہ جس نبوت کا ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا تھا اور جو دلائل آسمانی نشانوں کے آنجناب نے پیش کئے تھے وہ اب تک موجود ہیں اور پیروی کرنے والوں کو ملتے ہیں تا وہ معرفت کے مقام تک پہنچ جائیں۔اور زندہ خدا کو براہِ راست دیکھ لیں مگر جن نشانوں کو یسوع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ان کا دنیا میں نام ونشان نہیں صرف قصے ہیں۔لہذا یہ مردہ پرستی کا مذہب اپنے مردہ معبود کی طرح مردہ ہے۔ظاہر ہے کہ ایک سچائی کا بیان صرف قصوں تک کفایت نہیں کر سکتا۔کون سی قوم دنیا میں ہے جن کے پاس کراماتوں اور معجزوں کے قصے نہیں۔پس یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ وہ صرف قصوں کی ناقص اور نا تمام تسلی کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ڈھونڈ نے والوں کو زندہ نشانوں سے اطمینان بخشتا ہے اور اس شخص کو جو حق کا طالب ہو اس کو چاہیے کہ صرف بیہودہ مردہ پرستی پر کفایت نہ کرے بلکہ نہایت ضروری ہے کہ محض ذلیل قصوں پر سرنگوں نہ ہو۔ہم دنیا کے بازار میں اچھی چیزوں کے خریدنے کے لئے آئے ہیں۔ہمیں نہیں چاہیے کہ کوئی مغشوش چیز خرید کر نقد ایمان ضائع کریں۔زندہ وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلا واسطہ مُنھم کر سکے۔اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ ملھم کو دیکھ سکیں۔سو میں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔وہ مردے ہیں نہ خدا جن سے اب کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا اُس کے نشان نہیں دیکھ سکتا۔سو جس کا خدا مردہ ہے وہ اُس کو ہر میدان میں شرمندہ کرتا ہے اور ہر میدان میں اسے ذلیل کرتا ہے۔اور کہیں اس کی که