حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 455 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 455

حیات احمد ۴۵۵ جلد چهارم انجیل نے جو انتقامی قوت کو بُرا قرار دیا اگر وہ عذر ہمیں یاد نہ ہوتا جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں تو ہم ایسی تعلیم کو شیطانی تعلیم قرار دیتے مگر اب کیونکر قرار دیں کیونکہ خود حضرت مسیح اپنی تعلیم کے علمی اور ناقص ہونے کا اقرار کر کے اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ بہت سی باتیں ہیں کہ ابھی تم ان کو برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب فارقلیط آئے گا اور وہ تمام باتیں تمہیں سمجھا دے گا۔“ یہ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ میری تعلیم نکمی اور ناقص ہے اور آنے والا نبی کامل تعلیم لائے گا۔عیسائیوں کا یہ عذر بالکل جاہلانہ عذر ہے کہ یہ پیشگوئی اُس روز پوری ہوئی جب حواریوں نے طرح طرح کی زبانیں بولی تھیں کیونکہ طرح طرح کی زبانیں بولنا کوئی نئی تعلیم نہیں ہوسکتی وہ زبانیں تو عیسائیوں نے محفوظ نہیں رکھیں بولنے کے ساتھ ہی معدوم ہوگئیں۔ہاں اگر عیسائیوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی نئی تعلیم ہے جو حضرت مسیح کے اقوال میں نہیں پائی جاتی تو اُسے پیش کرنا چاہیے تا دیکھا جائے کہ وہ اس عفوا اور درگزر کی تعلیم کو کیونکر بدلاتی ہے۔اگر عیسائیوں میں انصاف ہوتا تو حضرت مسیح کا اپنی تعلیم کو ناقص قرار دینا اور ایک آنے والے نبی کی امید دلانا ہمارے مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت کے لئے بڑا قرینہ تھا۔خصوصاً اس حالت میں کہ خود انجیل کی ناقص تعلیم ایک کامل کتاب کو چاہتی تھی پھر یہ بھی ایک بڑا قرینہ تھا کہ حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ تم میں اُن باتوں کی برداشت نہیں اس میں صریح اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تمہاری استعدادیں اور تمہاری فطرتیں اُس تعلیم کے مخالف پڑی ہیں۔پھر جبکہ فطرت میں تبدیلی ممکن نہیں اور نہ حضرت مسیح کے وقت میں وہ فطرتیں مبدل ہوسکیں تو پھر کسی دوسرے وقت میں ان کی تبدیلی کیوں کر ممکن ہے۔پس یہ صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ تعلیم تمہیں نہیں دی جائے گی بلکہ تمہاری ذریت اس تعلیم کا زمانہ پائے گی اور ان کو وہ استعداد میں دی جائیں گی جو تمہیں نہیں دی گئیں یہ تو ہم نے