حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 452
حیات احمد ۴۵۲ جلد چهارم لیں کہ سزا دینے کا موقع اور محل بھی ہے یا نہیں پھر اگر موقعہ ہو تو دیں ورنہ رک جائیں۔اور یہ مضمون صرف اسی آیت میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ قرآن شریف کی اور کئی آیتوں میں یہی بیان ہے۔چنانچہ ایک جگہ اللہ جَلَّ شَانُهُ فرماتا ہے وَجَزَ وَا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور ایسی عفو ہو کہ اس سے کوئی اصلاح مقصود ہو تو وہ خدا سے اپنا اجر پائے گا یعنی بے محل اور بے موقعہ عفو نہ ہو جس سے کوئی بد نتیجہ نکلے اور کوئی فساد پیدا ہو بلکہ ایسے موقعہ پر عفو ہو جس سے کسی کی صلاحیت کی امید ہو اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنی آدم کی طبیعتیں یکساں واقع نہیں ہوئیں اور گناہ کرنے والوں کی عادتیں اور استعداد میں ایک طور کی نہیں ہوا کرتیں بلکہ بعض تو سزا کے لائق ہوتے ہیں اور بغیر سزا کے ان کی اصلاح ممکن نہیں اور بعض عفو اور درگزر سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور سزا دینے سے چڑ کر اور بھی بدی پر مستحکم ہو جاتے ہیں۔غرض یہ تعلیم وقت اور موقع بینی کی قرآن شریف میں جابجا پائی جاتی ہے اگر ہم تفصیل سے لکھیں تو ایک بڑا رسالہ بن جاتا۔یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ توریت میں آیا ہے کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے اُن پر چمکا۔اسی طرح حقیقی چمک ہر ایک تعلیم کی اسلام سے پیدا ہوئی ہے۔خدا کے کام اور خدا کی کلام کا کامل معانقہ قرآن نے ہی کرایا ہے۔توریت نے سزاؤں پر زور دیا تھا اور چونکہ الشورى: ا کے حاشیہ۔فاران عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں دو بھاگنے والے اور مصدر اس کا فرار ہے۔چونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والده مطهره صدیقه هاجره رضی اللہ عنھا سارہ کی بدخوئی اور ظلم کے ہاتھ سے تنگ آکر الہام الہی سے مکہ معظمہ کی زمین میں بھاگ آئے اس لئے اس زمین کا نام فاران ہوا یعنی دو بھاگنے والے۔منہ