حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 450 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 450

حیات احمد ۴۵۰ جلد چهارم قرآن کے جیسی کتاب میں بھی اس کے یعنی اس انجیل سے علم کی تعریف کی گئی ہے۔اور پھر ایک آیت کا غلط ترجمہ پیش کرتے ہیں کہ اگر بدلا دو تو اس قدر بدلا دو جس قدر تمہیں تکلیف پہنچے اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے اور اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ انجیلی تعلیم کے موافق ہے۔مگر یہ کچھ تو ان کی غلطی اور کچھ شرارت بھی ہے۔غلطی اس وجہ سے کہ یہ لوگ علم عربیت سے محض ناواقف اور بے بہرہ ہیں اس لئے ان کو کچھ بھی استعداد نہیں کہ قرآن کے الفاظ سے اس کے صحیح معنی سمجھ سکیں گے اور شرارت یہ کہ آیت صریح بتلا رہی ہے کہ اس میں انجیل کی طرح صرف ایک ہی پہلو درگزر اور عفو پر زور نہیں دیا گیا بلکہ انتقام کو تو حکم کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور عفو کی جگہ صبر کا لفظ ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں چاہیے اور عفو کرنے کے لئے کوئی حکم نہیں دیا۔مگر پھر بھی پادری ٹھا کر داس نے دانستہ اپنی آنکھ کو بند کر کے خواہ مخواہ قرآن شریف کی کامل تعلیم کو انجیل کی ناقص اور نگی تعلیم کے ساتھ مشابہت دینا چاہا ہے۔ناظرین یا درکھیں کہ قرآن شریف کی آیت جس کا غلط ترجمہ ٹھاکر داس صاحب نے پیش کیا ہے یہ ہے وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ نَبِنُ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ سے یعنی تم ایزا کے بدلے ایذا دو تو اسی قدر دو جس قدر تم کو ایذا دیا گیا۔اور اگر تم صبر کرو تو صبر کرنا ان کے لئے بہتر ہے جو سزا دینے میں دلیر ہیں اور لے حاشیہ۔یہ کلمہ قرآن جیسی کتاب میں بھی ایک تحقیر کا کلمہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی بزرگ اور مقدس کتاب کی نسبت پادری صاحب نے استعمال کیا ہے ہمیں تعجب ہے کہ یہ مردہ پرست قوم اللہ جل شانہ کے پاک کلام سے اس قدر کیوں بغض رکھتی ہے۔منہ ے نوٹ۔یہ بے علمی کی شامت ہے کہ ار جنوری ۱۸۹۶ء پر چہ نور افشاں میں کسی نادان عیسائی نے اپنے یسوع کو مصداق قول الْفَقْرُ فَخْرِی کا ٹھہرایا۔سو انہیں یادر ہے کہ فقر قابل تحسین وہ ہے جس میں صاحب فقر کی سخاوت النحل : ۱۲۷