حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 35
حیات احمد ۳۵ جلد چهارم پنڈت لیکھرام صاحب کے قتل کے بعد کے واقعات جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے پنڈت لیکھرام صاحب کی پیشگوئی کی تاریخی حیثیت میں نے بیان کی ہے کہ دراصل اس کی بنیاد ۱۸۸۵ء میں رکھی گئی جبکہ پنڈت جی قادیان تشریف لائے اور وہ حالات حیات احمد جلد دوم نمبر دوم میں لکھے گئے ہیں۔اس پر مزید تعمیر ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں ہوئی۔اور پھر ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء میں کھلے اور واضح الفاظ میں پنڈت لیکھرام کی موت کے متعلق ۶ سالہ میعاد مقرر کی گئی اور پھر ۲ را پریل ۱۸۹۳ء کو لیکھر ام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر“ کے عنوان سے برکات الدعا کے حاشیہ پر مزید اعلان کیا گیا اور یہ اعلام الہی اس وقت ہوا جبکہ آپ انہیں ہند میرٹھ کا جواب لکھ رہے تھے اور یہ پیشگوئی قبولیت دعا کا ایک نمونہ تھا۔اور سرسید احمد خاں مغفور کے لئے جو اشتہار آپ نے شائع کیا جس کا ذکر آگے آئے گا اس میں اس کو نمونہ دعائے مستجاب قرار دیا۔غرض یہ پیش گوئی نہ صرف اپنے اندر ہیبت و جلال رکھتی ہے بلکہ متعدد پیشگوئیوں کو لئے ہوئے ہے۔حضرت اقدس کی ایک لمبی زندگی کی اس میں بشارت ہے اور لیکھرام صاحب کے بھی ایک زمانہ تک زندہ رہنے کی خبر ہے اور اس کی ہلاکت کے وقوع کے لئے دوسرے آثار بھی بتا دیئے گئے جیسا کہ کرامات الصادقین میں آپ کو یہ بشارت دی گئی وَبَشَّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيْدِ وَالْعِيْدُ أَقْرَبُ یعنی میرے خدا نے ایک پیش گوئی کے پورا ہونے کی مجھے خوشخبری دی اور خوشخبری دے کر کہا کہ تو عید کے دن کو پہچانے گا جبکہ یہ نشان ظاہر ہوگا اور عید کا دن اس نشان کے دن سے بہت قریب ہے۔