حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 433 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 433

حیات احمد ۴۳۳ جلد چهارم سردار راج اندر سنگھ صاحب اگر صرف باوا صاحب کے مسلمان ہونے پر دلائل پیش کرتے تو غیر مناسب نہ تھا مگر اس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات پر حملے کئے اس لئے حضرت اقدس نے اس آسمانی فیصلہ کو ہی فیصلہ کن قرار دیا۔میں نے واقعات کے سلسلہ کو یکجائی طور پر بیان کرنے کے لئے ۱۸۹۷ ء تک لمبا کیا اس اشتہار کے بعد وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے کہ سردار راج اندرسنگھ صاحب کو مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔چہ ہیبت با بدادند این جوان را چه کہ ناید کس به میدان محمد بقیہ حاشیہ۔نبوتیں اس سے ثابت ہوئیں اور وہ اپنی ذات میں ثابت ہے۔بھلا بتاؤ! کہ اس کے سوا آج اس موجودہ دنیا میں کون ہے جس کا کوئی پیرو دم مار سکتا ہو کہ میں دعا اور خدا کی نصرت میں اپنے مخالف پر غالب آسکتا ہوں؟ یوں تو کوچہ کوچہ اور گلی گلی میں مذہب پھیلے ہوئے ہیں اور ہر ایک اپنے نبی یا اوتار کے اعجوبے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں بیان کر رہا ہے اور پستکوں اور کتابوں کے حوالہ سے ہزاروں خوارق اُن کے بیان کئے جاتے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان قصوں کا ثبوت کیا ہے اور کس کو ہم جھوٹا کہیں اور کس کو ہم سچا سمجھیں؟ اور اگر یہ قصے صحیح تھے تو اب کیوں یہ مصیبت پیش آئی کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصے ہی قصے رہ گئے؟ بچوں کا نور ہمیشہ قائم رہتا ہے ذرہ خود انصاف کرو۔کہ کیا گذشتہ باتوں کا فیصلہ صرف باتوں سے ہوسکتا ہے؟ کوئی بُرا مانے یا بھلا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان تمام مذہبوں میں سے بیچ پر قائم وہی مذہب ہے جس پر خدا کا ہاتھ ہے۔اور وہی مقبول دین ہے جس کی قبولیت کے نور ہر ایک زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ پیچھے رہ گئے ہیں۔سو دیکھو! میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائیدیں ہر وقت شامل ہیں۔کیا ہی بزرگ قدر وہ رسول ہے جس سے ہم ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں۔اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے جس کی محبت سے روح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے تب ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عجائب کام ہم سے ظاہر ہوتے ہیں۔زندہ خدا کا مزہ ہم اسی راہ میں دیکھتے ہیں باقی سب مردہ پرستیاں ہیں۔کہاں ہیں مردہ پرست کیا وہ بول سکتے ہیں؟ کہاں ہیں مخلوق پرست کیا وہ ہمارے آگے ٹھہر سکتے ہیں۔کہاں ہیں ترجمہ۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر نہیں آتا۔