حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 429
حیات احمد ۴۲۹ جلد چهارم میں سے تھا جو چولا کو دکھلا رہا تھا۔اور اس نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ اس پر لکھا ہوا ہے وہ انسان کا لکھا ہوا نہیں بلکہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔تب ہم نے بہت اصرار سے کہا کہ وہ قدرتی حروف ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔جو خاص پر میشر کے ہاتھ کے ہیں اور اسی لئے ہم دور سے آئے ہیں تو پھر اس نے تھوڑ اسا پردہ اٹھایا جس پر بسم اللہ الرحمن الرحيم نہایت خوشخط قلم سے لکھا ہوا تھا اور پھر اس بڑھے نے چاہا کہ کپڑے کو بند کر لے مگر پھر اس سے بھی زیادہ اصرار کیا گیا اور ہر یک اصرار کرنے والا ایک معزز آدمی تھا اور ہم اس وقت غالبا ہیں کے قریب آدمی ہوں گے اور بعض اسی شہر کے معزز تھے جو ہمیں ملنے آئے تھے۔تب اس بڑھے نے ذرا سا پھر پردہ اٹھایا۔تو ایک گوشہ نکلا جس پر موٹے قلم سے بہت جلی اور خوشخط لکھا ہوا تھا۔لا اله الا الله محمد رسول اللہ پھر اس بڑھے نے بند کرنا چاہا مگر فی الفورا خویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی نے مبلغ تین روپیہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے جن میں سے دو رو پید ان کے اور ایک روپیہ مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے تھا اور شیخ صاحب پہلے اس سے بھی چار روپیہ دے چکے تھے۔تب اس بڑھے نے ذرہ اور پردہ اٹھایا۔یک دفعہ ہماری نظر ایک کنارہ پر جاپڑی جہاں لکھا ہوا تھا ان الدين عند الله الاسلام یعنی سچا دین اسلام ہی ہے اور کوئی نہیں۔پھر اس بڑھے میں کچھ قبض خاطر پیدا ہوگئی تب پھر شیخ صاحب نے فی الفور دو روپیہ اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے یہ دو رو پیدا خویم مولوی حکیم نور دین صاحب کی طرف سے تھے اور پھر اس کے خوش کرنے کے لئے شیخ شمار اللة شمار صاحب نے چار روپیہ اور اپنی طرف سے دیدیئے اور ایک روپیہ اور ہمارے ایک اور مخلص کی طرف سے دیا۔تب یہ چود ان روپیہ پا کر وہ بڑھا خوش ہو گیا اور ہم بے تکلف دیکھنے لگے۔یہاں تک کہ کئی پر دے اپنے ہاتھ سے بھی اٹھا دیئے۔دیکھتے دیکھتے ایک جگہ یہ لکھا ہوا نکل آیا اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ - پھر شیخ رحمۃ اللہ صاحب نے اتفاقا دیکھا کہ چولہ کے