حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 425 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 425

حیات احمد ۴۲۵ جلد چهارم دی جائے۔اور حضرت بابا صاحب کے کمالات کو نمایاں کیا جاوے۔حضرت اقدس نے تاریخی واقعات اور حضرت بابا نانک صاحب کی عملی زندگی اور اپنے ذاتی مکاشفات کی بنا پر یہ بھی بیان کیا کہ حضرت بابا نانک صاحب عملاً نہ صرف مسلمان تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب اولیاء اللہ میں سے تھے۔یہ صرف دعوئی نہیں بلکہ خود حضرت بابا نانک صاحب کے متعلق لکھی ہوئی جنم ساکھیوں اور بعض اُن کے آثار مقدسہ اور تبرکات سے (جو اس وقت تک سکھ صاحبان کے مذہبی پیشواؤں کی نگرانی میں اور ان کے گردواروں میں محفوظ ہیں) ثابت کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ سماعی بیانات اور شہادتوں پر مبنی نہیں بعض آثار کو خود حضرت اقدس نے معززین کی ایک جماعت کے ساتھ جا کر معاینہ کیا اور بعض آثار مقدسہ کے معاینہ کے لئے وفود روانہ کئے اور اس کتاب کی اشاعت کے بعد آج تک ان تبرکات اور آثار مقدسہ کا انکار نہیں کیا گیا۔چولا صاحب ان آثار مقدسہ میں ایک نہایت قیمتی اور متبرک چولا صاحب ہے جو ڈیرہ بابا نانک کے گوردوارہ میں سینکڑوں قیمتی رومالوں میں لپٹا ہوا کابلی مل کے خاندان کی نگرانی میں محفوظ ہے۔میں اس واقعہ کے متعلق خود حضرت اقدس کا تحریری بیان درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں پوری تفصیل کے لئے قارئین کرام ست بچن پڑھیں۔باوانا تک صاحب کا وصیت نامہ جو سکھوں میں چولا صاحب کر کے مشہور ہے یہ وصیت نامہ جس کو سکھ لوگ چولا صاحب کے نام سے موسوم کرتے ہیں بمقام ڈیرہ نانک جوضلع گورداسپور پنجاب میں واقع ہے اس مکان گوردوارہ میں نہایت اعزاز اور اکرام سے رکھا ہوا ہے۔جس کو کابلی مل کی اولاد نے جو باوا صاحب کے نسل میں سے تھا خاص اس تبرک کے لئے بنوایا ہے اور پہلا مکان جو چولا صاحب کے لئے بنوایا گیا تھا کہتے ہیں کہ اس پر کئی ہزار روپیہ سے کچھ زیادہ خرچ آیا تھا۔غرض یہ چولا