حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 424
حیات احمد ۴۲۴ جلد چهارم حضرت بابا نانک صاحب اور اسلام یہ کتاب جیسا کہ اوپر ذکر ہوا اسی مقصد سے لکھی گئی تھی کہ ستیارتھ پر کاش میں حضرت بابا نانک صاحب کے متعلق جو امور ان کی شان کے خلاف بیان کئے گئے ہیں ان کی حقیقت کھول بقیہ حاشیہ۔رياض الفوائد + منهاج البيان + قرابادین کبیر جلد ۲ صفحه ۵۷۵ + قرابادین بقائی جلد دوم صفحه ۴۹۷ لوامع شہر یہ تصنیف سید حسین شہر کاظمی + قرابادین حسنین بن اسحاق عیسائی + قرابادین رومی اور اگر بڑی بڑی کتابیں کسی کو میسر نہ آئیں تو قرابادین قادری تو ہر جگہ اور ہر شہر میں مل سکتی ہے اور اکثر دیہات کے نیم حکیم بھی اس کو اپنے پاس رکھا کرتے ہیں سواگر ذرہ تکلیف اٹھا کر اس کے صفحہ ۵۰۸ باب بستم امراض جلد میں نظر ڈالیں تو یہ عبارت اس میں لکھی ہوئی پائیں گے۔مرہم حوار بین که مسمی ست بمر هم سلیخا و مرہم رسل و آنرا مر ہم عیسی نیز نامند و اجزائے ایس نسخه دوازده عدد است که حوار بین جہت عیسی علیہ السلام ترکیب کردہ برائے تحلیل اورام دخنازیر و طواعین و تنقیه جراحات از گوشت فاسد و او ساخ و جهت رومانیدن گوشت تازه سود مند۔اور اس جگہ نسخہ کے اجزاء لکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ ہر ایک شخص قرابادین وغیرہ کتابوں میں دیکھ سکتا ہے۔“ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ تا ۳۰۴) بقیہ حاشیہ در حاشیہ کے یہودی اس قول سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ حضرت عیسی سولی پر مر گئے اور ڈاکٹر صاحب نے جو کشمیریوں کے یہودی الاصل ہونے پر دلائل لکھے ہیں یہی دلائل ایک غور کرنے والی نگاہ میں ہمارے متذکرہ بالا بیان پر شواہد بینہ ہیں یہ واقعہ مذکورہ جو حضرت موسیٰ کشمیر میں آئے تھے چنانچہ ان کی قبر بھی شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ سے مراد عیسی ہی ہے کیونکہ یہ بات قریب قیاس ہے کہ جب کشمیر کے یہودیوں میں اس قدر تغیر واقع ہوئے کہ وہ بت پرست ہو گئے اور پھر مدت کے بعد مسلمان ہو گئے تو کم علمی اور لاپروائی کی وجہ سے عیسی کی جگہ موسیٰ انہیں یاد رہ گیا ورنہ حضرت موسیٰ تو موافق تصریح توریت کے موآب کی سرزمین میں اس سفر میں فوت ہو گئے تھے جو مصر سے کنعان کی طرف بنی اسرائیل نے کیا تھا اور موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل دفن کئے گئے دیکھو استثناء ۳۴ باب، ورس ۶،۵۔ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لفظ بھی رفتہ رفتہ بجائے عیسی کے لفظ کے مستعمل ہو گیا۔۔۔۔منه ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۲ تا ۳۰۵ حاشیه در حاشیه )