حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 422 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 422

حیات احمد ۴۲۲ جلد چهارم کر سکے اور آپ نے یہ رسالہ لکھا اور اس کے شروع میں ذکر کیا اور آریہ صاحبوں کو توجہ دلائی کہ وہ اس حقانی انسان کی راست گفتاری اور راست روی کو غور سے دیکھیں جس کا اس رسالہ میں ذکر ہے اور اگر ہو سکے تو اس کے نقش قدم پر چلیں اور وہ انسان وہی ایک بزرگ دیوتا ہے جو بابر کے زمانہ میں پیدا ہوکر خدا تعالیٰ کے دین کی صداقت کا ایک گواہ بن گیا۔“ بقیہ حاشیہ۔بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت ان کے خاندان سے خارج ہوگئی۔جو لوگ اپنی قوت عقلیہ سے کام لینا نہیں چاہتے ان کا منہ بند کرنا مشکل ہے مگر مرہم حوار تین نے اس بات کا صفائی سے فیصلہ کر دیا کہ حضرت مسیح کے جسم عنصری کا آسمان پر جانا سب جھوٹے قصے اور بیہودہ کہانیاں ہیں اور بلا شبہ اب تمام شکوک وشبہات کے زخم اس مرہم سے مندمل ہو گئے ہیں۔عیسائیوں اور نیم عیسائیوں کو معلوم ہو کہ یہ مرہم معہ اس کے وجہ تسمیہ کے طب کی ہزار ہا کتابوں میں موجود ہے اور اس مرہم کا ذکر کرنے والے نہ صرف مسلمان طبیب ہیں بلکہ مسلمان۔مجوسی۔عیسائی سب اس میں شامل ہیں۔اگر چاہیں تو ہم ہزار کتاب سے زیادہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں اور کئی کتابیں حضرت مسیح کے زمانہ کے قریب قریب کی ہیں اور سب اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کے زخموں کے لئے تیار کی تھی دراصل یہ نسخہ عیسائیوں کی پرانی قرابادینوں میں تھا جو یونانی میں تالیف ہوئی تھیں پھر ہارون اور مامون کے وقت میں وہ کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ یہ کتابیں باوجود امتداد زمانہ کے تلف نہیں ہوسکیں یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے فضل نے ہمیں ان پر مطلع کیا۔اب ایسے یقینی واقعہ سے انکار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی ہے۔ہمیں امید نہیں کہ کوئی عظمند عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے اس سے انکار کرے کیونکہ اعلیٰ درجہ کے تواتر بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔معلوم ہوتی تھیں میری بات کو آپ محض خیالی ہی تصور نہ فرمائیے گا ان دیہاتوں کے یہودی نما ہونے کی نسبت ہمارے پادری صاحبان اور اور بہت سے فرنگستانیوں نے بھی میرے کشمیر جانے سے بہت عرصہ پہلے ایسا ہی لکھا ہے۔دوسری علامت یہ ہے کہ اس شہر کے باشندے باوجود یکہ تمام مسلمان ہیں مگر پھر بھی ان میں سے اکثر کا نام موسیٰ ہے۔تیسرے یہاں یہ عام روایت ہے کہ حضرت سلیمان اس ملک میں آئے تھے۔چوتھے یہاں کے لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ حضرت موسیٰ نے شہر کشمیر ہی میں وفات پائی تھی اور ان کا مزار شہر سے قریب تین میل کے ہے۔پانچویں عموماً یہاں سب لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اونچے پہاڑ پر جو ایک مختصر اور نہایت پورانا مکان نظر آتا ہے اس کو حضرت سلیمان نے تعمیر کرایا تھا اور اسی سبب سے اس کو آج تک