حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 421
حیات احمد ست بچن کی تصنیف و اشاعت ۴۲۱ جلد چهارم تصنیفات کے سلسلہ میں ایک نئی تصنیف اور جدید تاریخی دریافت سکھ ازم کے متعلق آپ نے لکھی جس کا نام ست بچن ہے اس کتاب میں حضرت بابا نا تک رحمۃ اللہ علیہ کے عملی مذہب کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اسلام تھا اور اس کے ثبوت میں وہ شہادتیں پیش کی گئی ہیں جو خود سکھوں کے پاس موجود ہیں۔اور جن پر کسی غیر کا قبضہ نہیں۔اس تصنیف کی محرک دراصل ستیارتھ پر کاش تھی جس میں حضرت بابا نانک صاحب کا ذکر توہین آمیز الفاظ میں کیا گیا تھا۔آپ اسے برداشت نہ بقیہ حاشیہ۔کیا انجیلوں سے یہ پتہ بھی بخوبی ملتا ہے کہ انہیں زخموں کی وجہ سے حضرت مسیح پلاطوس کی بستی میں چالیس ۴۰ دن تک برابر ٹھہرے اور پوشیدہ طور پر یہی مرہم ان کے زخموں پر لگتی رہی آخر اللہ تعالیٰ نے اسی سے ان کو شفا بخشی اس مدت میں زیرک طبع حواریوں نے یہی مصلحت دیکھی کہ جاہل یہودیوں کو تلاشی اور جستجو سے باز رکھنے کے لئے اور نیز ان کا پُر کینہ جوش فرو کرنے کی غرض سے پلاطوس کی بستیوں میں یہ مشہور کر دیں کہ یسوع مسیح آسمان پر معہ جسم اٹھایا گیا اور فی الواقعہ انہوں نے یہ بڑی دانائی کی کہ یہودیوں کے خیالات کو اور طرف لگا دیا اور اس طرف پہلے سے یہ انتظام ہو چکا تھا اور بات پختہ ہو چکی تھی کہ فلاں تاریخ پلاطوس کی عملداری سے یسوع مسیح باہر نکل جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حواری ان کو کچھ دور تک سڑک پر چھوڑ آئے اور حدیث صحیح سے جو طبرانی میں ہے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ستاسی برس زندہ رہے اور ان برسوں میں انہوں نے بہت سے ملکوں کی سیاحت کی اسی لئے ان کا نام مسیح ہوا۔اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ اس سیاحت کے زمانہ میں مثبت میں بھی آئے ہوں جیسا کہ آج کل بعض انگریزوں کی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر برنیئر اور بعض دوسرے یوروپین عالموں کی یہ رائے ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ کشمیر کے مسلمان باشندہ دراصل یہود ہوں پس یہ رائے بھی کچھ بعید نہیں کہ حضرت مسیح انہیں لوگوں کی طرف آئے ہوں اور پھر تبت کی طرف رخ کر لیا ہو اور کیا تعجب کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر یا اس کے نواح میں ہو۔یہودیوں کے ملکوں سے ان کا نکلنا اس ی حاشیہ در حاشیہ۔ڈاکٹر بر نیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں چنانچہ پیر پنجال سے گزر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا تو دیہات کے باشندوں کی صورتیں یہود کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ نا قابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سیاح مختلف اقوام کے لوگوں کی خود بخود شناخت اور تمیز کر سکتا ہے۔سب یہودیوں کی پورانی قوم کیسی