حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 420
حیات احمد ۴۲۰ جلد چهارم مرہم عیسیٰ کی تحقیقات نے موجودہ عیسائی مذہب ابطال کے لئے ایک حربہ کی بنیا درکھ دی کہ کسر صلیب میں کوئی باقی نہ رہا اس سلسلہ میں آپ نے کشمیر میں ایک وفد بھیجا جو قبر مسیح کے متعلق تاریخی اور معروف گواہوں کے بیانات قلمبند کر کے رپورٹ کرے اس وفد کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔اس سلسلہ میں راز حقیقت نام ایک کتاب شائع ہوئی پھر ایک علمی تحقیقات کی بناء پر مسیح ہندوستان میں“ کے نام سے ایک لاجواب کتاب لکھی گئی اور شائع ہوئی جس پر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ عیسائی ممالک میں بھی ایک عام بیداری پیدا ہوگئی ان امور کا ذکر آئندہ آئے گا۔بقیہ حاشیہ۔حواریوں نے تعجب سے دیکھا کہ صلیب پر سے کیونکر بچ گئے اور گمان کیا کہ شاید ہمارے سامنے ان کی روح متمثل ہو گئی ہے تو انہوں نے اپنے زخم دکھلائے جو صلیب پر باندھنے کے وقت پڑ گئے تھے تب حواریوں کو یقین آیا کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھ سے ان کو نجات دی۔حال کے عیسائیوں کی یہ نہایت سادہ لوحی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ یسوع مسیح مرکز نئے سرے زندہ ہوا۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ خدا جو محض قدرت سے اس کو زندہ کرتا۔اس کے زخموں کو بھی اچھا کر دیتا۔بالخصوص جبکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرا جسم جلالی ہے جو آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف جا بیٹھا۔تو کیا قبول کر سکتے ہیں کہ جلالی جسم پر بھی یہ زخموں کا کلنک باقی رہا اور مسیح نے خود اپنے اس قصہ کی مثال یونس کے قصہ سے دی اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا پس اگر مسیج مر گیا تھا تو یہ مثال صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح آدمی ٹھہرتا ہے جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ مُشَبَّہ اور مُشَبَّہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔غرض اس مرہم کی تعریف میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس مرہم نے مسیح کو اچھا بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔کے دکھ دیئے وطن سے نکالا، دانت شہید کیا، انگلی کو زخمی کیا اور کئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے۔سو در حقیقت اس پیشگوئی میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنایا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے محفوظ رکھا اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا تھا۔ان کی اس کارروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہونا نہ تھا بلکہ ان کا اصل ارادہ حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی کے ذریعہ سے قتل کر دینا تھا۔سوخدا نے ان کو اس بد ارادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے پس قول مَا صَلَبُوهُ ان پر صادق آیا۔منہ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ حاشیه )