حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 415
حیات احمد نور القرآن حصہ دوم ۴۱۵ جلد چهارم پہلا رساله ۱۵ جون ۱۸۹۵ء کو شائع ہوا تھا مگر اس کے بعد نومبر ۱۸۹۵ء تک کوئی رسالہ شائع نہ ہو سکا ۲۰/ دسمبر ۱۸۹۵ء کو اس کا دوسرا نمبر شائع ہوا جو ستمبر ۱۸۹۵ء سے لے کر اپریل ۱۸۹۶ء پر مشتمل تھا اس نمبر کی اشاعت کا محرک پادری فتح مسیح تھا جس کا ذکر اس کتاب میں پہلے بھی آچکا ہے وہ فتح گڑھ چوڑیاں کا رہنے والا تھا۔بعض اسباب کی وجہ سے عیسائی ہو گیا اور عیسائیوں میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے اسلام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی سے کام لیتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت کے مقابلہ میں دعویٰ الہام کر کے ذلیل بھی ہو چکا تھا۔جب اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف زبان طعن دراز کی تو حضرت اقدس خاموش نہ رہ سکے اور حضور کے لئے آپ کی غیرت کا دشمنوں کو اعتراف تھا۔چنانچہ پادری وائٹ بریخٹ نے جبکہ میں نے اُن سے دریافت کیا کہ حضرت اقدس کے چال چلن میں کوئی نقص ہو تو بتاؤ تو کہا وہ بڑے عالم اور نیک آدمی ہیں۔لیکن جب حضرت محمد (صاحب) پر اعتراض کیا جاوے تو ان کو غصہ آجاتا ہے۔میں نے کہا تھا یہ تو خوبی اور کمال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ غیور ہیں۔غرض یہ فتح مسیح دریدہ دہن آدمی تھا۔اس نے ایک نہایت گندہ خط حضرت اقدس کو لکھا اس کے جواب میں حضرت نے نور القرآن حصہ دوم شائع کیا چونکہ اس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ذلیل طریق پر بے ادبی کی تھی آپ نے جواب میں مسلّمہ یسوع صاحب کے حالات کو ان کے ہی مسلمات کی بناء پر پیش کیا اور بتایا کہ ہم یسوع کو نہیں جانتے حضرت مسیح ابن مریم کو تو خدا تعالیٰ کا نبی اور برگزیدہ رسول یقین کرتے ہیں چونکہ نورالقرآن حصہ دوم (جس کا نام آپ نے فتح مسیح بھی رکھا) میں یسوع کے کام سے ایک غلط نہی پیدا ہوتی تھی کہ معاذ اللہ مسیح ابن مریم کی ہتک کی ہے اس لئے آپ نے توضیحی بیان سب سے اول درج کیا ہے اب میں اس رسالہ کی وجہ تصنیف اور ازالہ غلط نہی کو