حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 411
حیات احمد ۴۱۱ جلد چهارم ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہوتا ہے اور مقدمات کم ہوتے ہیں اور بدنیت لوگوں کا منہ بند ہوتا ہے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اس کا اثر مسلمانوں سے خاص نہیں۔ہر یک قوم پر اس کا برابر اثر ہے۔آخر ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس گورنمنٹ کو ہمیشہ کے اقبال کے ساتھ ہمارے سروں پر خوش و خرم رکھے اور ہمیں کچی شکر گزاری کی توفیق دے اور ہماری محسن گورنمنٹ کو اس مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست کی طرف توجہ دلا دے کہ ہر یک توفیق اسی کے ارادہ اور حکم سے ہے۔آمین الملتمـ سين اہل اسلام رعایا گورنمنٹ جن کے نام علیحد ہ نقشوں میں درج ہیں مورخه ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء ( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۰۳ تا ۱۰۶ تبلیغ رسالت جلد ۴ صفحه ۳۳ تا ۳۷) نور القرآن حصہ اوّل و دوم کی تصنیف و اشاعت سلسلہ تصنیفات میں نور القرآن سہ ماہی رسالہ کا اجرا ہے۔قرآن کریم کے حقایق و معارف اور اس کی تعلیم کی فضیلت و کمالات کے اظہار کا آپ کے دل میں بے پناہ جذبہ تھا۔اور آپ کے کلام منظوم و منثور سے یہ حقیقت روشن ہے دراصل آپ ۱۸۸۷ء ہی میں ایک رسالہ ” قرآنی صداقتوں کا جلوہ گاہ کے نام سے جاری کرنا چاہتے تھے۔مگر حالات موافق نہ تھے اور دوسری مصروفیتوں نے موقعہ نہ دیا ۱۸۹۵ء میں پھر اس کا خیال اور ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے نور القرآن کے اجراء کا ارادہ فرمایا۔اس وقت قادیان میں کتابت اور طباعت کا بھی انتظام ہو چکا تھا۔آپ کی غرض و غایت تو قرآن کریم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور صداقت کا اظہار تھا۔کسی تجارتی اصول پر یہ سلسلہ جاری نہ تھا۔چنانچہ خود آپ نے اس مقصد کا اریہ اظہار نور القرآن حصہ اوّل میں کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں۔