حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 410
حیات احمد ۴۱۰ جلد چهارم اس فکر میں پڑ جاتا ہے کہ کسی طرح جھوٹ اور افترا سے مدد لے کر اس سچ کو پوشیدہ کر دیوے اور فریق ثانی کو خواہ نخواہ ذلت پہنچاوے سو ملک کو تہذیب اور راست روی میں ترقی دینے کے لئے اور بہتان طرازی کی عادت سے روکنے کے لئے یہ ایک ایسی عمدہ تدبیر ہے جس سے بہت جلد دلوں میں بچی پر ہیز گاری پیدا ہو جائے گی۔تیسری ضرورت اس قانون کے پاس کرنے کی یہ ہے کہ اس بے قیدی سے ہماری محسن گورنمنٹ کے قانون پر عقل اور کانشنس کا اعتراض ہے چونکہ یہ دانا گورنمنٹ ہر یک نیک کام میں اول درجہ پر ہے تو کیوں اس قدر الزام اپنے ذمہ رکھے کہ کسی کو یہ بات کہنے کا موقعہ ملے کہ مذہبی مباحثات میں اس کے قانون میں احسن انتظام نہیں۔ظاہر ہے کہ ایسی بے قیدی سے صلح کاری اور باہمی محبت دن بدن کم ہوتی جاتی ہے اور ایک فریق دوسرے فریق کی نسبت ایسا اشتعال رکھتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس کو نابود کر دیوے اور اس تمام نا اتفاقی کی جڑ مذہبی مباحثات کی بے اعتدالی ہے گورنمنٹ اپنی رعایا کے لئے بطور معلم کے ہے۔پھر اگر رعایا ایک دوسرے سے درندہ کا حکم رکھتی ہو تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ قانونی حکمت عملی سے اس درندگی کو دور کر دے۔چوتھی یہ کہ اہل اسلام گورنمنٹ کی وہ وفادار رعایا ہے جن کی دلی خیر خواہی روز بروز ترقی پر ہے اور اپنے جان و مال سے گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور اس کی مہربانیوں پر بھروسہ رکھتے ہیں۔اور کوئی بات خلاف مرضی گورنمنٹ کرنا نہایت بیجا خیال کرتے ہیں اور دل سے گورنمنٹ کے مطیع ہیں۔پس اس صورت میں ان کا حق بھی ہے کہ ان کی درد ناک فریاد کی طرف گورنمنٹ عالیہ توجہ کرے پھر یہ درخواست بھی کوئی ایسی درخواست نہیں جس کا صرف مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور دوسروں کو نہیں بلکہ ہر یک قوم اس فائدہ میں شریک ہے اور یہ کام ایسا ہے جس سے