حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 407
حیات احمد ۴۰۷ جلد چهارم قریب پہنچ گئے ہیں اور خطر ناک حالت پیدا کرتے جاتے ہیں اور ایک وسیع بے قیدی ان میں طوفان کی طرح نمودار ہوگئی ہے دومندرجہ ذیل شرطوں سے مشروط فرما دیا جاوے اور اسی طرح اس وسعت اور بے قیدی کو روک کر ان خرابیوں سے رعایا کو بچایا جاوے جو دن بدن ایک مہیب صورت پیدا کرتی جاتی ہیں جن کا ضروری نتیجہ قوموں میں سخت دشمنی اور خطرناک مقدمات ہیں ان دو شرطوں میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ برٹش انڈیا کے وہ فرقے جو ایک دوسرے سے مذہب اور عقیدہ میں اختلاف رکھتے ہیں اپنے فریق مخالف پر کوئی ایسا اعتراض نہ کریں جو خود اپنے پر وارد ہوتا ہو یعنی اگر ایک فریق دوسرے فریق پر مذہبی نکتہ چینی کے طور پر کوئی ایسا اعتراض کرنا چاہے جس کا ضروری نتیجہ اس مذہب کے پیشوا یا کتاب کی کسرشان ہو جس کو اس فریق کے لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مانتے ہوں تو اس کو اس امر کے بارے میں قانونی ممانعت ہو جائے کہ ایسا اعتراض اپنے فریق مخالف پر اس صورت میں ہرگز نہ کرے جبکہ خود اس کی کتاب یا اس کے پیشوا پر وہی اعتراض ہو سکتا ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ ایسے اعتراض سے بھی ممانعت فرما دی جائے جو ان کتابوں کی بناء پر نہ ہو جن کو کسی فریق نے اپنی مسلّم اور مقبول کتابیں ٹھہرا کر ان کی ایک چھپی ہوئی فہرست اپنے ایک کھلے کھلے اعلان کے ساتھ شائع کرادی ہو اور صاف اشتہار دے دیا ہو کہ یہی وہ کتابیں ہیں جن پر میرا عقیدہ ہے اور جو میری مذہبی کتابیں ہیں سو ہم تمام درخواست کنندوں کی التماس یہ ہے کہ ان دونوں شرطوں کے بارے میں ایک قانون پاس ہوکر اس کی خلاف ورزی کو ایک مجرمانہ حرکت قرار دیا جاوے اور ایسے تمام مجرم دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند یا جس دفعہ کی رو سے سر کار مناسب سمجھے سزایاب ہوتے رہیں۔اور جن ضرورتوں کی بناء پر ہم رعایا سرکا را نگریزی کی اس درخواست کے لئے مجبور ہوئے ہیں وہ بہ تفصیل ذیل ہیں۔