حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 404
حیات احمد ۴۰۴ جلد چهارم مناظرات میں ضروری الوجود ہیں۔سو بھائیو! یہ تدبیر عمدہ نہیں ہے کہ ہر روز ہم گالیاں سنیں اور روا رکھیں کہ ہندوؤں کے لڑکے بازاروں میں بیٹھ کر اور عیسائیوں کی جماعتیں ہر ایک کو چہ گلی میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی گالیاں نکالیں اور آئے دن پر تو ہین کتابیں شائع کریں۔بلکہ اس وقت ضروری تدبیر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے سرکاری قانون سے مدد لیں اور اس درخواست کے موافق جو گورنمنٹ کی توجہ کے لئے علیحدہ لکھی گئی ہے اس مضمون کا گورنمنٹ عالیہ سے قانون پاس کرا دیں کہ آئندہ مناظرات و مجادلات میں بغرض رفع فتنہ وفساد عام آزادی اور بے قیدی کو محدود کر دیا جاوے۔اور ہر یک قوم کے لوگ اعتراض و نکتہ چینی کے وقت ہمیشہ دو باتوں کے پابند ر ہیں۔(۱) یہ کہ ہر یک فریق جو کسی دوسرے فریق پر اعتراض کرے تو صرف اس صورت میں اعتراض کرنے کے وقت نیک نیت سمجھا جائے کہ جب اعتراض میں وہ باتیں نہ پائی جائیں جو خود اُس کے مسلم عقیدہ میں پائی جاتی ہیں۔یعنی ایسا اعتراض نہ ہو جو وہ اس کے عقیدہ پر بھی وارد ہوتا ہو۔اور وہ بھی اس سے ایسا ملزم ہوسکتا ہو جیسا کہ اس کا مخالف۔اور اگر کوئی اس قاعدہ سے تجاوز کرے اور وہ تجاوز ثابت ہو جاوے تو بغیر حاجت کسی دوسری تحقیقات کے یہ سمجھا جاوے کہ اس نے محض بدنیتی سے ایک مذہبی امر میں اپنے مخالف کا دل دکھانے کے لئے یہ حرکت کی۔(۲) یہ کہ ہر ایک معترض ایسا اعتراض کرنے کا ہرگز مجاز نہ ہو کہ جو ان کتب مشتہرہ کے مخالف ہو جن کو کسی فریق نے حصہ کے طور پر اپنی مسلّمہ کتا بیں قرار دے کر ان کی نسبت اشتہار شائع کرایا ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو قانوناً یہ قرار دیا جاوے کہ اس نے ایک ایسا امر کیا جو نیک نیتی کے برخلاف ہے اور جو شخص ان دونوں