حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 405
حیات احمد ۴۰۵ جلد چهارم تجاوزوں میں سے کوئی ایک تجاوز کر کے یا دونوں کر کے کسی قسم کی صریح ہجو یا اشارہ یا کنایہ سے کسی فریق کا دل دکھاوے تو وہ دفعہ ۲۹۸ تعزیرات کا مجرم قرار دے کر اس سزا کا مستوجب سمجھا جائے جو قانون کی حد تک ہے۔یہ قانون ہے جس کا پاس کرانا ضروری ہے سو اے بزرگو اور دین اسلام کے مخوار و ! برائے خدا اس تحریر پر غور کر کے اُس درخواست کو اپنے دستخطوں سے مزین کرو جو اس قانون کے پاس کرنے کے لئے لکھی گئی ہے تا فساد انگیز جھگڑے کم ہو جائیں۔اور گورنمنٹ کو آرام ملے اور ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہو۔اور ملک کے باشندوں کے کینے ترقی کرنے سے روکے جائیں۔بھائیو! اس قانون کے پاس ہونے میں بہت ہی برکتیں ہیں۔اور سچے دین کو اس سے بہت ہی مددملتی ہے۔اور مفسدوں اور افترا پردازوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔گورنمنٹ کے کسی منشاء کے مخالف یہ کارروائی نہیں بلکہ ہماری دانا گورنمنٹ خود ایسی باتوں کو ہمیشہ سوچتی ہے جس سے اس ملک کے فتنے و فساد کم ہوں اور لوگ ایک دل ہوکر گورنمنٹ کی خدمت میں مشغول رہیں۔اور نیز یہ وہ مبارک طریق ہے جن سے آئندہ بیجا حملہ کرنے والے رک جائیں گے۔اور ہر یک جاہل متعصب مناظرہ اور مجادلہ کے لئے جرات نہ کر سکے گا۔اور یہ امر تمام ان لوگوں کے لئے مفید ہے جو یاوہ گوؤں کا کسی تدبیر سے منہ بند کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی صاحب نے ایسے مبارک محضر پر دستخط نہ کئے جس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت مفتری لوگوں کے افتراؤں سے بچ جاتی ہے اور اسلام بہت سے کمینہ اور سراسر دروغ حملوں سے امن میں آجاتا ہے تو اس کا اسلام نہایت بودا اور تاریکی میں پڑا ہوا ثابت ہوگا۔اور ہم عزم بالجزم رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس موقع پر ہم دینی غمخواروں کا باعزت نام مخلصانہ دعائے خیر کے ساتھ نہایت شوق سے شائع کریں گے تا ان کی مردی اور سعادت عامہ خلائق پر ظاہر ہو۔