حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 392 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 392

حیات احمد ۳۹۲ جلد چهارم محض اپنے فضل سے ہمارے ایک اور نو جوان کو جو مکرم خواجہ صاحب کی طرح وکیل بھی ہے اس طرف متوجہ کیا اور انہوں نے حضرت اقدس کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کرام الالسنہ کی ابتدائی بنیاد پر شاندار قصر کی بنیاد رکھ دی ہے۔اس سے میری مراد حضرت ظفر المظفر احمد صاحب کے فرزند عزیزم مکرم منشی محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ سے ہے۔جنہوں نے اس تحقیقات کو نہایت موثق اور صحیح اصولوں پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ کیا ہے۔اور اس کے اجزا رسالہ الفرقان احمد نگر میں ماہانہ شایع ہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ کتاب نہایت اچھے کاغذ پر علیحدہ اردو اور انگریزی میں شائع ہو۔القصہ من الرحمان کے ذریعہ جو عظیم دریافت آپ نے فرمائی وہ آج تک لا جواب اور عصر جدید کے علمی طبقہ کے لئے ایک نادر حقیقت ہے۔اتحاد بین المذاہب اور مناظرات مذہبی میں طریق امن تصنیفات کا سلسلہ الگ جاری تھا۔مختلف اطراف سے آنے والے خطوط کا جواب دوسری جماعت کی تنظیم و تربیت الگ اس طرح پر باوجود بے حد مصروفیات کے آپ نے آئے دن کے مذہبی مناظرات میں اتحادئین المذاہب کے سوال کو نظر انداز نہیں کیا حقیقت میں جو شخص اقوام عالم کا موعود اور جس کی آمد ان تمام وعدوں کو پورا کرتی ہے۔قدرتی طور پر اس کے فرائض میں یہ امر آجاتا ہے کہ اتحاد بین المذاہب کی راہ پیدا کرے۔اور مناظرات مذہبی جو بعض اوقات خطرناک جدال اور منافرت کی صورت پیدا کرتے ہیں ان کے لئے ایک ایسا دستورالعمل تجویز کر دیا جاوے کہ اختلافات باعث رحمت بن جاویں چونکہ اس نظام امن کے لئے حکومت اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں میں متفقہ عمل کی ضرورت تھی اس لئے آپ نے جہاں مختلف مذاہب کے لیڈروں کو متوجہ کیا حکومت ہند کو بھی اس غرض سے ایک قانون بنانے کی تحریک کی اس تجویز کو عملی صورت دینے کے لئے آپ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اول تمام مذاہب کے لیڈروں کے نام ایک نوٹس جاری کیا اور اس پر ہر فرقہ کے ممتاز مسلمانوں کے جن میں علماء۔عہدہ دار۔تاجر