حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 385
حیات احمد ۳۸۵ جلد چهارم بھی نہ اٹھ سکے اور کیسا بت بنے بیٹھے تھے۔مدراس کے اخبار نیر آصفی نے تو مسلسل کئی آرٹیکل اس مضمون کی خوبیوں پر لکھے۔حضرت مولوی عبدالکریم کا مسحور کن بیان کچھ شک نہیں کہ مضمون اپنے اندر ہر قسم کے کمالات مؤثرہ کا حامل تھا اور ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو حضرت کے نمائندہ کی حیثیت سے جس وجود کو برگزیدہ کیا اس کے بیان میں بھی ایک سحر تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ایک بے نظیر خطیب اور بے نظیر محرر تھے۔زبان و قلم دونوں پر اُن کی حکومت تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو حسنِ بیان کی مختلف نعمتیں عطا کی تھیں۔الفاظ کی صحت اور طرز بیان میں لب ولہجہ کا اتار چڑ ہاؤ ایک ایسی نعمت ان کو ملی تھی کہ وہ ایک سنگدل انسان کے دل پر بھی اثر کئے بغیر نہ رہتی۔قرآن مجید کی تلاوت جلسہ کے شور وشغب کو ٹھنڈا کر دیتی۔جیسا که قارئین کرام اسی کتاب میں جنگ مقدس کے ذکر میں پڑھ آئے ہیں کہ عیسائی گھبرا اٹھتے تھے۔ان کی ایمانی قوت اتنی زبر دست تھی کہ کسی اثر دھام و ہجوم یا مختلف علوم کے ماہرین کی موجودگی ان پر مؤثر نہ ہوتی وہ پوری شوکت اور قلبی قوت کے ساتھ تقریر کرتے۔اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر اپنے فضل و رحمت کے پھول برسائے۔وہ میرے استاد اور میرے قدردان تھے۔اللھم نَوِّرْ مَرْقَدَهُ یہ ذکر ضمنا نہیں آیا بلکہ اس مضمون کی بالاتری کے نشان کے ظہور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مایکروفون کا مظہر بنا دیا۔اور آٹھ ہزار کے مجمع کو اپنی خدا دا جَهِيرُ الصَّوْتِی سے گھنٹوں تک مسحور رکھے رہے۔