حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 366
حیات احمد جلد چهارم شیخ محمد حسین بطالوی کا وہ الزام کہ اس شخص کو عربی کا ایک صیغہ نہیں آتا میرے سر پر سے اتارا۔اور محمد حسین اور دوسرے مخالفین کی جہالت کو ظاہر کیا۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَالِكَ تیسرا دہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ قبولیت ہے جو مباہلہ کے بعد دنیا میں کھل گئی۔مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ شاید تین چار سو آدمی ہوں گے۔اور اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جاں فشاں ہیں۔اور جس طرح اچھی زمین کی کھیتی جلد جلد نشو و نما پکڑتی اور بڑھتی جاتی ہے ایسا ہی فوق العادت طور پر اس جماعت کی ترقی ہو رہی ہے۔نیک روحیں اس طرف دوڑتی چلی آتی ہیں۔اور خدا زمین کو ہماری طرف کھینچتا چلا آتا ہے مباہلہ کے بعد ہی ایک ایسی قبولیت پھیلی ہے کہ اس کو دیکھ کر ایک رفت پیدا ہوتی ہے۔ایک دو اینٹ سے اب ایک محل طیار ہو گیا ہے۔اور ایک دو قطرہ سے اب ایک نہر معلوم ہوتی ہے ذرہ آنکھیں کھولو اور پنجاب اور ہندوستان میں پھرو۔اب اکثر جگہ ہماری جماعتیں پاؤ گے۔فرشتے کام کر رہے ہیں دلوں میں نور ڈال رہے ہیں۔سو دیکھو مباہلہ کے بعد کیسی عزت ہم کو ملی سچ کہو کہ یہ خدا کا فعل ہے یا انسان کا۔چوتھا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا رمضان میں خسوف کسوف ہے۔کتب حدیث میں صدہا برسوں سے یہ لکھا ہوا چلا آتا تھا کہ مہدی کی۔تصدیق کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہوگا۔اور آج تک کسی نے نہیں لکھا کہ پہلے اس سے کوئی ایسا مہدویت کا مدعی ظاہر ہوا تھا جس کو خدا نے یہ عزت دی ہو کہ اس کے لئے رمضان میں خسوف کسوف ہو گیا ہو۔سوخدا نے مباہلہ کے بعد یہ عزت بھی میرے نصیب کی۔اے اندھو! اب سوچو کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت کس کو ملی۔عبدالحق تو میری ذلت