حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 365 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 365

حیات احمد ۳۶۵ جلد چهارم حضرت کے الفاظ میں یہاں بیان کر دیتا ہوں۔اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگر چہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو مگر جو صادق کے سامنے مباہلہ کے لئے آیا ہو کسی قدر تو بعد مباہلہ ایسے امور کا پایا جانا چاہیے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی جائے۔سو جاننا چاہیے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل جو بحکم وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ 4 ہماری عزت کے موجب ہوئے۔اوّل۔آٹھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ اپنے واقعی معنوں کے رو سے پوری ہوگئی اور اس دن وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھی گئی تھی۔آتھم اصل منشاء الہام کے مطابق مر گیا اور تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا۔اور ان کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پا کر صدہا دلوں کا کفر ٹوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے۔اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے۔دوسرا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ اُن عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے لکھا گیا تھا۔اور انہیں میں سے یہ عربی مکتوب ہے جواب نکلا۔کیا عبدالحق اور کیا اس کے دوسرے بھائی ان رسائل کے مقابل پر مر گئے اور کچھ بھی لکھ نہ سکے۔اور دنیا نے یہ فیصلہ کر دیا کہ عربی دانی کی عزت اسی شخص یعنی اس راقم کے لئے مسلّم ہے جس کو کا فرٹھہرایا گیا ہے اور یہ سب مولوی جاہل ہیں۔اب سوچو کہ یہ عزت کی تعریفیں مجھے کس وقت ملیں۔کیا مباہلہ کے بعد یا اس کے پہلے۔سو یہ ایک مباہلہ کا اثر تھا کہ خدا نے ظاہر کیا۔اسی وقت میں خدا نے القصص : ۸۴