حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 364 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 364

حیات احمد ۳۶۴ جلد چهارم مباہلہ کے بعد پندرہ سال سے زائد حیات طیبہ عطا فرمائی اور آپ کو ایک ایسی فدائی جماعت عطا کی جو آپ کے مقاصد تبلیغ میں ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر وقت آمادہ رہتی اور اس سلسلہ کو اپنے وعدے کے موافق ایسی ترقی دی کہ وہ ایک گاؤں سے نکل کر آج روئے زمین پر پھیل گیا۔اور یہ کہنا بالکل سچ ہے کہ آج سلسلہ عالیہ احمدیہ کی وسعت پر آفتاب غروب نہیں ہوتا با ایں بعض خاص برکات کا مختصر ذکر کروں گا۔آج عبدالحق کا کوئی نام لیوا باقی نہیں وہ گمنامی کے گوشہ میں دفن ہو گیا نہ صرف وہ بلکہ جس جماعت سے اس کا تعلق تھا وہ بھی ختم ہوگئی۔مگر حضرت کے جان نثاروں کی تعداد روئے زمین پر لاکھوں تک پہنچ گئی ہے عبدالحق مقطوع النسل آپ کی زندگی میں ہو چکا تھا۔اس نے اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کر کے ایک لڑکے کی پیدائیش کا اعلان کیا اور ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔برخلاف اس کے حضرت کو اللہ تعالیٰ نے تیسرے اور چوتھے لڑکے کی بشارت دی اور وہ پیشگوئی کے موافق پیدا ہوئے۔چوتھا لڑکا پیشگوئی کے موافق کم عمری میں فوت ہوکر ایک نشان فرط ٹھہرا۔اور تیسرا لڑکا (شریف احمد سَلَّمَهُ اللهُ الاحد ) اب تک زندہ اور ایک بڑے خاندان کا بانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد میں اتنی برکت دی۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو برکت دی تھی آج اس کی اولاد کی گنتی کے لئے ایک دفتر کی ضرورت ہے۔اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ راقم الحروف کا یقین ہے کہ بہت جلد یہ تعداد ایک سے ہزار ہو کر پھر بے شمار ہو جائے گی اور ملکوں میں پھیل جائے گی۔یہ میں جسمانی اولاد کے متعلق کہتا ہوں روحانی اولا د تو لاکھوں تک پھیل گئی۔عبدالحق کے مباہلہ کے اثرات و نتائج کے بیان کرنے کی اس لئے بھی ضرورت پیش آئی کہ جب آپ نے دعوت قوم کے عنوان سے مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تو بعض مکفرین نے اعتراض کیا کہ عبدالحق سے جو مباہلہ کیا تھا اس کا کیا نتیجہ ہوا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اگر ان کے خیال میں کوئی نتیجہ نہیں ہوا تھا تو وہ سب سے پہلے لبیک کہتے اور میدان مقابلہ میں آتے مگر انہوں نے اس پیالہ موت کوٹلا نا چاہا۔اس لئے خود حضرت نے مباہلہ کے اثرات کو ضمیمہ انجام آتھم میں تفصیل سے شائع کیا۔میں اس کی تفصیلات کے لئے تو قارئین کرام کو اصل کتاب پڑھنے کی تحریک کرتا ہوں۔خلاصۂ