حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 363
حیات احمد کھل جائے گا۔۳۶۳ جلد چهارم اگر عیسائی لوگ سچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی تو اس طریق امتحان سے کونسی چیز ان کو مانع ہے۔“ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۱۴ تا ۱۶) اس اعلان کے بعد ایسے تمام معترضین کو سانپ سونگھ گیا اور بع چناں خفته اند که گوئی مرده اند کے مصداق ہو گئے اس طرح پر آتھم کی وہ پیشگوئی جو ھر جون ۱۸۹۳ء کو کی گئی تھی اپنی تمام شرائط کے ساتھ مختلف تجلیات کا مظہر ہو کر آخر آتھم کی موت پر ختم ہوئی۔آتھم اور حضرت اقدس قریباً ہم عمر تھے۔اور آتھم کی صحت بہت اچھی تھی۔اور حضرت پر ہمیشہ دو زرد چادروں (دوستم کی بیماریوں) کا اثر تھا۔اور وہ دونوں بیماریاں مہلک قسم کی تھیں۔مگر وہ اس مقابلہ میں آزاد بے فکر انسان جو ہر قسم کی آسائش کے سامان رکھتا تھا۔اور جس کی ساری قوم اس مقابلہ کی وجہ سے اس کی طرف دار تھی آخر کتمان حق کی سزا میں فوت ہو گیا اور یہ پہلوان حضرت ربّ جلیل خود اس کی موت کے بعد بھی بارہ برس تک زندہ رہا۔اور ایک فعال جماعت پیدا کر کے اپنی زندگی کے دائمی آثار ہر ملک میں قائم کر گیا۔اللَّهُمَّ نَوِّرُ مَرْقَدَهُ عبدالحق کے مباہلہ کے اثرات آتھم کے قصہ کو ختم کرتے ہوئے پھر میں ۱۸۹۳ء کے اس واقعہ کی طرف آتا ہوں جو تاریخ سلسلہ میں مباہلہ عبدالحق کے نام سے موسوم ہے۔یہ مباہلہ انہیں ایام میں ہوا تھا جبکہ آر عیسائیوں سے مباہلہ کے لئے امرت سر آئے تھے۔پہلے بیان ہو چکا ہے کہ آپ نے اس مباہلہ میں فریق مقابل کے لئے بددعا نہیں کی تھی بلکہ خود اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا تھا کہ اگر میں تیری طرف سے نہیں ہوں تو مجھ پر عذاب نازل کر لیکن نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس