حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 355
حیات احمد ۳۵۵ جلد چهارم نہیں آئے گا جو ایمانداری اور حق پر مبنی ہو۔صرف جھوٹا عذر ہوگا۔جس کی بدبو دور سے آئے گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتـ خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان - ۳۰ / دسمبر ۱۸۹۵ء تبلیغ رسالت جلد ۴ صفحه ۶۸ تا ۷۰ مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۵۳۸، ۵۳۹ طبع بار دوم ) نورافشاں بحوالہ بھارت سدہار کا اعتراض اس سے پہلے نورافشاں نے بھارت سدہار کے حوالہ سے ایک اور اعتراض شائع کیا کہ آتھم کی زندگی پر ایک اور سال گزر گیا اور وہ مرا نہیں اس کے جواب میں آپ نے ضیاء الحق نام ایک مختصر سا رسالہ شائع کر دیا۔فرمایا چند روز ہوئے ہیں کہ ہم نے نورافشاں ۱۳ ر ستمبر ۱۸۹۵ء میں پرچہ بھارت سد ہار ۲۴ را گست ۱۸۹۵ ء کا ایک مضمون پڑھا ہے جس میں صاحب پر چہ یہ لکھتا ہے کہ ایک سال اور بھی گزرگیا اور عبد اللہ انتم اب تک زندہ موجود ہیں فقط۔جو لوگ ایسے خیالات شائع کرتے ہیں ان کی حالت دوصورتوں سے خالی نہیں ایک تو یہ کہ شاید انہوں نے ہمارے رسالہ انوار الاسلام کو بھی نہیں دیکھا جس میں ان تمام وساوس کا جواب مفصل موجود ہے۔اور دوسری یہ کہ گو انہوں نے انوار الاسلام کو دیکھا ہو بلکہ تمام دوسرے اشتہاروں کو بھی دیکھ لیا ہو مگر وہ تعصب جو آنکھوں کو اندھا کر دیتا اور دل کو تاریک کر دیتا ہے اس نے دیکھا ہوا بھی ان دیکھا کر دیا۔ہائے افسوس ان لوگوں کی عقل پر انہوں نے تو انسان بن کر انسانیت کو بھی داغ لگایا۔بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ اگر عبداللہ آتھم ہماری درخواست پر ہمارے سامنے وہ قسم نہیں کھائے گا جس کے الفاظ بارہا ہم