حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 353 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 353

حیات احمد ۳۵۳ جلد چهارم دوست مولوی عبدالکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں بٹالہ کے اسٹیشن پر پادری فتح مسیح سے ان کی ملاقات ہوئی اور پادری صاحب نے آتھم صاحب کا ذکر کر کے فرمایا کہ انہوں نے قسم کھانے سے اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ یہ جماعت ایک حقیر اور ذلیل جماعت ہے۔جن کی تعداد چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ پندرہ آدمی ہوں گے۔ان کے مقابل پر کیا قسم کھاویں اور بجز ان کے تمام مسلمان یہی یقین رکھتے ہیں کہ آتھم صاحب فتح یاب ہو گئے ہیں۔پس چونکہ یہ تقریر فتح مسیح صاحب کی سراسر واقعہ کے برخلاف ہے اور آتھم صاحب نے ہرگز یہ عذر نہیں کیا۔اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ ہماری جماعت میں صرف پندرہ آدمی ہیں۔بلکہ وہ کئی ہزار اہل علم اور عاقل آدمی ہیں۔جن میں بہت سے معزز مولوی صاحبان بھی داخل ہیں یہ بھی جھوٹ ہے کہ تمام مسلمان آتھم صاحب کی فتح پر یقین رکھتے ہیں اور پیشگوئی کو جھوٹی جانتے ہیں۔کیونکہ ہماری نظر میں ہزار ہا ایسے آدمی موجود ہیں کہ وہ سچے دل سے سمجھتے ہیں کہ پیشگوئی اپنے دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر پوری ہوگئی۔سو چونکہ فتح مسیح صاحب نے اپنی قدیم عادت کی وجہ سے یہ ایک صریح جھوٹ بولا ہے۔جیسا کہ بٹالہ میں ایک مرتبہ اپنے ملہم ہونے کا ایک جھوٹا دعوی کر دیا تھا۔اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ یہ مکروہ جھوٹ ان کا پبلک پر کھول دیا جائے۔سو ہم اشتہار دیتے ہیں کہ فتح مسیح صاحب اگر بچے ہیں تو بذریعہ کسی چھپی ہوئی تحریر کے ہم کو اطلاع دیں کہ کس قدر ایسے آدمیوں کے دستخط وہ چاہتے ہیں جو اس بات کا اقرار کرتے ہوں جو حقیقت میں پیشگوئی پوری ہوگئی۔اور پادری صاحبوں کو شکست آئی اگر ہم پندرہ سے سو گنا زیادہ پیش کر دیں تو کیا وہ آتھم صاحب سے قسم دلائیں گے یا نہیں۔بے شک ان کی عیسائی ایمانداری کا اب یہ تقاضا ہونا چاہیے۔کہ وہ اپنی بات اور دعویٰ پر قائم رہ کر بلا توقف