حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 26
حیات احمد ۲۶ پنڈت لیکھرام کے طلب نشان کی ابتدائی تاریخ ”اچھا آسمانی نشان تو دکھاویں اگر بحث کرنا نہیں چاہتے تو رَبُّ العرش خَيْرُ الْمَاكِرِينَ سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان ہوتا فیصلہ ہو۔“ جلد چهارم اس کے اس خط میں اس قسم کے نشان کی صراحت تھی جو اپنی نسبت چاہتا تھا اور عجیب بات ہے کہ اس نے مطالبہ میں اللہ تعالیٰ کا نام خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ رکھا اور یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں ایسے مفہوم کو لے کر آیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ بار یک اسباب سے مجرم کو ہلاک کرتا ہے اور مامورین و مرسلین کے خلاف تجویزوں اور منصوبوں کو تباہ کر دیتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نہاں در نہاں مشتیت کا اظہار ہے کہ خود پنڈت لیکھرام صاحب نے اپنی نسبت طلب نشان میں خیر الماکرین کی کرشمہ سازی دیکھنی چاہی اور جب پیشگوئی کا ظہور ہوا تو اس کی حقیقت کھل گئی۔حضرت اقدس بحث کے لئے ہر وقت آمادہ تھے پنڈت جی کے اس خط کے فقرہ میں یہ غلط الزام حضرت اقدس کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔حضرت اقدس نے تو ہمیشہ حق کے طلب گاروں اور هَلْ مِنْ مُّبَارِزِ کہنے والوں کے لئے اس دروازہ کو کھلا رکھا کہ صحیح اور اصولی طریق پر اظہار حق کے لئے مباحثہ کر لیں۔چنانچہ اس خط کے جواب میں حضرت نے پنڈت صاحب کو لکھا۔” جناب پنڈت صاحب ! آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بدزبانی سے رکتی نہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلے ہیں۔گویا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بیباکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر