حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 348
حیات احمد ۳۴۸ جلد چهارم ہم ہر چہار نظیروں کے پیش کرنے والے کے لئے ہزار روپیہ نقد انعام مقرر کرتے ہیں۔ہم اس روپیہ کے دینے میں کوئی شرط مقرر نہیں کرتے۔صرف اس قدر ہوگا کہ بعد درخواست یہ ہزار روپیہ مولوی محمد حسین صاحب لد ہیا نوی کے پاس تین ہفتہ کے اندر جمع کرادیا جاوے گا اور مولوی صاحب موصوف ایک تاریخ پر جو ان کی طرف سے مقرر ہو فریقین کو اپنے مکان پر بلا کر بلند آواز سے تین مرتبہ قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعات جو پیش کئے گئے بے نظیر نہیں ہیں اور جو کچھ ان کی نظیریں بتلائی گئی ہیں وہ واقعی طور پر صحیح اور درست اور یقینی اور قطعی ہیں۔اور بخدا ان نشانیوں کے مصداق ہونے کا مدعی در حقیقت کا فر ہے اور میں بصیرت کا ملہ سے کہتا ہوں کہ ضرور وہ کافر ہے اور اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو میرے پر وہ عذاب اور قہر الہی نازل ہو جو جھوٹوں پر ہوا کرتا ہے اور ہم ہر ایک مرتبہ کے ساتھ آمین کہیں گے۔اور واپسی روپیہ کی کوئی شرط نہیں۔اور نہ عذاب کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے۔ہمارے لئے یہ کافی ہوگا کہ یا تو مولوی صاحب خدا تعالیٰ سے ڈریں اور قسم نہ کھائیں اور یا تمام مکفروں کے سرگروہ بن کرفتم کھالیں اور اس کے ثمرات دیکھیں اور ہم اس جگہ علمائے وقت کی خدمت میں یہ ادب عرض کرتے ہیں کہ وہ تکفیر اور انکار میں جلدی نہ کریں کیا ممکن نہیں کہ جس کو وہ جھوٹا کہتے ہیں اصل میں سچا وہی ہو۔پس جلدی کر کے ناحق کی روسیاہی کیوں لیتے ہیں۔کیا کسی جھوٹے کے لئے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہو اور خدا تعالیٰ اس کو نہ پکڑے۔بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو ایک تو بیان کریں ورنہ اُس قادر منتقم سے ڈریں جس کا غضب انسان کے غضب سے کہیں بڑھ کر ہے۔اور اس بات پر خوش نہ ہوں کہ بعض مسائل میں اختلاف ہے اور ذرہ دل میں سوچ لیں کہ اگر