حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 347 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 347

حیات احمد ۳۴۷ جلد چهارم ان ہر چہار علامات کو آپ نے دعوی کی تائید میں پیش کیا۔اور مخالفت کرنے والے علماء رشید احمد گنگوہی وغیرہ کو مخاطب کر کے جواب دیا اور اس کے رد سے مکفرین کو مخاطب ٹھہرایا۔خواہ وہ لود ہیا نوی ہوں یا امرت سری یا گنگوہی یا ہندوستان و پنجاب کے کسی مقام پر تکفیر کرنے والے ہوں۔وہ مولوی محمد حسین لود بیانوی کو اپنا لیڈر بنا کرفتم لکھوا لیں اور ایک ہزار روپیہ انعام لیں۔جھوٹی قسم کا عذاب خود صداقت کا اظہار کر دے گا۔قسم آپ نے اس امر پر چاہی کہ یہ چاروں نشان پہلے مدعی پر ثابت کرو اور نظیر پیش کرو۔آپ نے فرمایا۔اب علماء مکفرین بتلاویں کہ یہ باتیں پوری ہوگئیں یا نہیں۔بلکہ یہ دو علامتیں یعنی مہدی ہونے کے مدعی کو بڑے زور وشور سے کافر اور دنبال کہنا اور نصاریٰ کی تائید کرنا اور ان کو فتح یاب قرار دینا اپنے ہاتھ سے مولویوں نے ایسے طور سے پوری کیں جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔نادانی سے پہلے باہم مشورہ کر کے سوچ نہ لیا کہ اس طور سے تو ہم دو نشانیوں کا آپ ہی ثبوت دے دیں گے۔جس شد ومد سے اس عاجز کی تکفیر کی گئی ہے اگر پہلے بھی کسی مہدی ہونے کے مدعی کی اس زوروشور سے تکفیر ہوئی ہے اور یہ لعن طعن کی بارش اور کافر اور دقبال کہنا اور دین کا بیخ گن قرار دینا اور تمام ملک کے علماء کا اس پر اتفاق کرنا اور تمام ممالک میں اس کو شہرت دینا پہلے بھی وقوع میں آیا ہے تو اس کی نظیر پیش کریں جو طَابَقَ النَّعْلُ بِالنَّعْلِ کا مصداق ہو ورنہ مہدی موعود کی ایک خاص نشانی انہوں نے اپنے ہاتھ سے قائم کردی اگر پہلے بھی ایسا اتفاق انہوں نے نصاری سے کیا ہے اور اُن کو غالب قرار دیا ہے تو اس کی نظیر بتلاویں اور اگر پہلے بھی کسی ایسے شخص کے وقت میں جو مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہو چاند گرہن سورج گرہن رمضان میں ہو گئے ہوں تو اس کی نظیر پیش کریں اور اگر پہلے بھی کسی مہدی کے لوگوں اور نصاریٰ کا کچھ جھگڑا پڑا ہو اور نصاریٰ نے اپنی فتح یابی کے لئے ایسی شیطانی آوازیں نکالی ہوں تو اس کی نظیر بھی بتلا دیں اور