حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 336
حیات احمد ۳۳۶ جلد چهارم وہ کسی طرح اپنی بے ایمانی اور یاوہ گوئی سے باز نہ آویں تو ہم ان میں سے شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی ثم امرتسری اور مولوی رشید احمد گنگوہی کو اس فیصلہ کے لئے منتخب کرتے ہیں۔اگر وہ تینوں یا ان میں سے کوئی ایک ہمارے اس بیان کا منکر ہو اور اس کا یہ دعوی ہو کہ کوئی ایسی الہامی پیشگوئی جس میں عذاب موت کے لئے کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہو اُس تاریخ کے بارے میں خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت اور سنت قدیمہ نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص یا ایسی قوم کی تو بہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے جن کی نسبت وہ وعدہ عذاب ہے دوسرے وقت پر جا پڑے تو طریق فیصلہ یہ ہے کہ وہ ایک تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام میں اس بارہ میں نصوص صریحہ کتاب اللہ اور احادیث نبویہ اور کتب سابقہ کی ہم سے سنیں اور صرف دو گھنٹہ تک ہمیں مہلت دیں۔تاہم کتاب اور سنت اور پہلی سماوی کتابوں کے دلائل شافیہ اپنے تائید دعوی میں ان کے سامنے پیش کر دیں۔پھر اگر وہ قبول کر لیں تو چاہیے کہ حیا اور شرم کر کے آئندہ ایسی پیشگوئیوں کی تکذیب نہ کریں بلکہ خود مؤید اور مصدق ہوکر دوسرے منکروں کو سمجھاتے رہیں اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور تقویٰ کا طریق اختیار کریں۔اور اگر ان نصوص اور دلائل سے منکر ہوں اور ان کا یہ خیال ہو کہ یہ دعویٰ نصوص صریحہ سے ثابت نہیں ہو سکا اور جو دلائل بیان کئے گئے ہیں وہ باطل ہیں تو ہم ان کے لئے دو سو روپیہ نقد کا انعام مقرر کرتے ہیں کہ وہ اسی جلسہ عام میں بدیں الفاظ قسم کھا ئیں کہ۔اے خدا قادر ذوالجلال ! جو جھوٹوں کو سزا دیتا ہے اور بچوں کی حمایت کرتا ہے میں تیری ذات کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ جو کچھ دلائل پیش کئے گئے وہ سب باطل ہیں اور تیری ہرگز یہ عادت نہیں کہ عذاب کے وعدوں اور میعادوں میں کسی کی توبہ یا خائف اور ہراساں ہونے سے تاخیر کر دے بلکہ ایسی پیشگوئی سراسر جھوٹ ہے یا شیطانی ہے اور ہرگز تیری طرف سے نہیں۔اور اے قادر خدا ! اگر تو جانتا ہے کہ میں