حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 335
حیات احمد ۳۳۵ جلد چهارم مخالف علماء پھر میدان میں۔اس اثنا میں جبکہ آتھم کی پیش گوئی کے رجوع الی الحق کی صورت میں پورا ہونے کا اعلان ہور ہا تھا بعض عاقبت نا اندیش علماء نے جن کی قیادت کفر بٹالوی صاحب کر رہے تھے۔یہ کہنا شروع کیا کہ عذاب کی پیشگوئی ٹلا نہیں کرتی آپ نے پھر ایک اعلان ۶ اکتو بر کو شائع کیا جس میں لکھا۔دنیا میں بہتیرے ایسے یاوہ گو اور احمق ہیں جو اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے کہ اگر کسی الہام میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میعاد مقرر ہو تو ضرور وہ میعاد اپنے وقت مقررہ پر پوری ہونی چاہیے مگر ایسے لوگ اپنی بے وقوفی اور حماقت کی وجہ سے نہایت ہی قابل رحم ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ پیشگوئیوں کا خدا تعالیٰ کی کامل صفات اور ربانی کتاب کے موافق ظاہر ہونا ضروری ہے جبکہ وہ نہایت ہی رحیم و کریم وحلیم ہے۔اور ڈرنے والے کو ایسے طور سے نہیں پکڑتا جیسا کہ سخت دل اور بے باک کو پکڑتا ہے اور سچی توبہ اور صدقہ اور خیرات سے عذاب میں تاخیر ڈال دیتا ہے تو یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس کے وعدے اور اس کی پیشگوئیاں اس کی صفات کے مخالف نہ ہوں۔اور یہ بات تو عام لوگوں کے لئے ہے جو خدا تعالیٰ کی کتابوں کو غور سے نہیں دیکھتے ، لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن کریم میں تدبر کر سکتے ہیں اور ان الہی سنتوں کے واقف ہیں جو اُس مقدس کتاب میں درج ہیں وہ ہمارے اس بیان کو خوب سمجھتے ہیں اور ان کی سخت بے ایمانی ہوگی اگر وہ اس کا انکار کریں۔لیکن چونکہ وہ اس طوفان حسد اور تعصب کے وقت میں کسی قسم کی بے ایمانی سے نہیں ڈرتے اس لئے ان کی پردہ دری کے لئے ایک اور انتظام کی ضرورت ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اگر ا نوٹ۔اس انتظام کی اس لئے ضرورت ہے کہ بعض ملحد جن کے سیاہ دل ہیں ضرور یہ کہیں گے کہ اب اپنے بچاؤ کے لئے یہ باتیں بنالی ہیں۔لہذا واجب ہے کہ اب یہ فیصلہ قرآن کریم اور آثار نبویہ کی رو سے کیا جائے اور مومن کو چاہیے کہ ہر ایک مقدمہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رد کرے اور ہر ایک امر میں خدا کی کتاب کو معیار بنادے۔اور جو شخص قرآن اور رسول کے فیصلے پر راضی نہ ہو اور کوئی اور راہ ڈھونڈے تو وہ وہی ہے جو بے ایمان اور حیلہ ساز ہے۔منہ