حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 334 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 334

حیات احمد ۳۳۴ جلد چهارم خیال کرتے ہیں تو میں اُن کی پردہ دری کے لئے طیار ہوں۔اگر وہ دروغ گوئی اور چالا کی سے باز نہ آئیں تو مباہلہ اس طور پر ہوگا کہ ایک تاریخ مقرر ہوکر ہم فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کھڑے ہوکر تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفۃ العین کے لئے میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ناحق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے خدائے قادر مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔اس دعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان کے دیں گے۔چاہیں تو پہلے کسی جگہ جمع کرالیں۔اور اگر وہ ایسی درخواست نہ کریں تو یقینا سمجھو کہ وہ کا ذب ہیں اور غلو کے وقت اپنی سزا پائیں گے۔ہمیں صاف طور پر الہاماً معلوم ہو گیا ہے کہ اس وقت تک عذاب موت ٹلنے کا یہی باعث ہے کہ عبداللہ آتھم نے حق کی عظمت کو اپنی خوفناک حالت کی وجہ سے قبول کر کے ان لوگوں سے کسی درجہ پر مشابہت پیدا کر لی ہے جو حق کی طرف رجوع کرتے ہیں اس لئے ضرور تھا کہ ان کو کسی قدر اس شرط کا فائدہ ملتا۔اور اس امر کو وہ لوگ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جو ان کی حالات پر غور کریں اور ان کی تمام بے قراریوں کو ایک جگہ میزان دے کر دیکھیں کہ کہاں تک پہنچ گئی تھیں کیا وہ ہاو یہ تھا یا کچھ اور تھا ؟“ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۵ تا ۷۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۳۸۸ تا ۳۹۰ طبع بار دوم )