حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 330
حیات احمد ۳۳۰ جلد چهارم کھایا گیا ہوکسی اور سے کبھی ظاہر نہیں ہو سکتا۔اسی حالت میں جب پندرہ ماہ گزر گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس رجوع الی الحق کی وجہ سے مہلت عطا فرمائی تو عیسائیوں نے اس پر بڑی خوشیاں منائیں اور اپنی جہالت اور نادانی سے اسے عیسائیت کی فتح سمجھ کر ۶ رستمبر ۱۸۹۴ء کو امرت سر میں اس کا ایک جلوس نکالا۔اور جشن بھی منایا۔لیکن آتھم صاحب کا دل اس قدر پر مردہ اور افسردہ تھا کہ ان کے چہرہ پر خوشی کے کوئی آثار نمایاں نہ تھے۔چنانچہ امرت سر شہر میں جس وقت عیسائیوں نے آتھم صاحب کا جلوس نکالا تو آتھم صاحب ایک فٹن پر بیٹھے ہوئے تھے۔اور ایسے بے حس و حرکت بیٹھے ہوئے تھے جیسے ایک لاش ہوتی ہے چونکہ امرت سر میں حضرت اقدس کا مباحثہ آتھم صاحب سے ہوا تھا۔اس لئے اس کے متعلق پیشگوئی کا یہاں بہت چرچا تھا۔آتھم صاحب کو اس طرح پر بیٹھا دیکھ کر شہر بھر میں مشہور ہو گیا کہ آتھم تو پیشگوئی کے مطابق مر گیا۔مگر انگریزوں نے لاش میں بھس بھر کر اسے فٹن میں بٹھایا ہوا ہے اور یہ افواہ اس زور سے عوام الناس میں پھیلی کہ میں ( یعنی خاکسار مؤلف ) جو ان دنوں امرت سر میں موجود تھا۔نماز عصر کے لئے مسجد میں گیا۔(وہ حنفیوں کی مسجد تھی ) تو وہاں لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ واہ رے فرنگیوں کی چالا کی مرے ہوئے آدمی میں بھس بھر کر اور فٹن میں بٹھا کر اس کا جلوس نکال مارا۔میں نے پوچھا کہ کس مرے ہوئے آدمی میں بھس بھر کر جلوس نکالا ، کہنے لگے واہ صاحب! آپ کو پتہ نہیں۔آج آتھم کا جلوس پادریوں نے نکالا تھا۔آتھم تو مرزا صاحب قادیانی کی پیشگوئی کے مطابق پندرہ ماہ کے اندر مر چکا تھا۔مگر آج پندرہ ماہ پورے ہونے کے بعد فرنگیوں نے لوگوں کو یہ بتانے کو کہ وہ زندہ ہے اس کی لاش میں بھس بھر کر اس کا ایک جلوس نکالا۔میں نے کہا یہ کیسے پتہ لگا کہ مردہ میں بھس بھرا ہوا تھا۔ممکن ہے وہ زندہ ہی ہو۔وہ بولے ” واہ صاحب کیا ہم مرے ہوئے اور زندہ آدمی میں فرق نہیں کر سکتے۔آٹھم کا بے جان بت صاف نظر آتا تھا۔نہ بولتا تھا نہ حرکت کرتا تھا۔آنکھیں تک تو جھپکتی نہ تھیں۔مجھے یہ سن کر تعجب ہوا۔بالخصوص اس لئے کہ وہ لوگ حضرت مرزا صاحب کے مرید نہ تھے۔بلکہ پکے حنفی تھے۔میں نے دریافت کیا کہ وہ اب کہاں ہے کہنے لگے ”پادری ہنری