حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 329
حیات احمد ۳۲۹ جلد چهارم صاحب کو دونوں بازوؤں کا سہارا دے کر بڑی مشکل سے گاڑی سے اتارا۔میں حلفاً بیان کرتا ہوں۔کہ ان کی حالت اس وقت ایک مردہ سے کم نہ تھی۔گاڑی (فٹن) بالکل دروازہ کے پاس کھڑی تھی۔اور اس میں بمشکل ان کو سوار کرا کر لے گئے۔اسی وقت بٹالہ سے گاڑی آتی تھی اس گاڑی سے مرحوم مرزا اسماعیل صاحب اترے اور ہمیں انتظار تھا کہ کیا خبر آتی ہے۔آتھم کو زندہ تو ہم نے خود دیکھا تھا اس سے پوچھا تو اس نے کہا اشتہار فتح اسلام لایا ہوں اس سے سب پتہ لگ جاوے گا۔غرض وہ اشتہار پڑھا تو ہم پر سکینت کا مزید نزول ہوا۔اشتہار فوراً طبع کرا کر سہ پہر سے پہلے شائع کر دیا۔مگر شہر میں عام طور پر مشہور ہو گیا کہ آتھم کی لاش میں ٹھس بھر کر لائے ہیں۔ہمارا اس سے تعلق نہیں تھا۔عام لوگوں میں یہ افواہ تھی ہم سب نے سنا اور لوگوں نے جب ان کا جلوس نکالا اور دیکھا کہ آتھم صاحب مٹی کے ایک بُت کی طرح بیٹھے ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ بُت بنا کر لائے۔سہ پہر میں عیسائیوں نے آتھم کو ایک مختصر سی پارٹی دی تھی اور اس کی نمائش کی تھی میں بھی اسے دیکھنے گیا تھا۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مغفور و مرحوم نے ( جواس وقت احمدی نہ تھے بلکہ طالب علم تھے اور امرت سر میں مقیم تھے ) اپنے چشم دید واقعات کو بیان کیا ہے۔میں تائید مزید کے لئے انہیں درج کرتا ہوں۔دیپالپور ضلع منٹگمری مجھے ( یعنی خاکسار مؤلف کو) ایک دفعہ جانا پڑا تو وہاں کا ذیلدار مجھے ملا۔وہ حضرت مرزا صاحب کا مرید نہ تھا۔باتوں باتوں میں آتھم صاحب کا جو ذکر آ گیا تو کہنے لگا آتھم صاحب اس ضلع میں مال افسر رہ چکے ہیں۔دورہ پر جب آتے تو ہمیشہ مذہبی مباحثہ کرتے رہتے اور اسلام کے خلاف زہرا گلتے رہتے۔لیکن پیشگوئی کے بعد اس پندرہ ماہ کے اندر مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو اسلام کے خلاف ایک لفظ تک نہ بولے۔غرض کہ تقریر وتحریر دونوں میں اسلام کے خلاف ایک لفظ بھی اس پندرہ ماہ کے عرصہ میں آتھم صاحب نہ بولے اور نہ لکھا اور ڈرتے اس قدر ر ہے کہ اس قدر ڈر سوائے اس شخص کے جو اندر ہی اندر اسلام کی صداقت سے