حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 328 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 328

حیات احمد ۳۲۸ جلد چهارم ابھی انتظام کرتا ہوں۔اس وقت ٹیلیفون تو نہ تھے فوراً گاڑی منگوائی اور ڈپٹی کمشنر کی کوٹھی کو روانہ ہو گئے اور ہم کو کہا میری واپسی تک یہاں رہو۔چنانچہ انہوں نے صورت حال کو بیان کیا۔اور اس کے نتائج سے انہیں آگاہ کیا۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس واقعہ کے بدنتائج کا اعتراف کیا اور فوراً پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ذریعہ یہ انتظام کیا کہ یہ تماشا نہ ہوا۔ہم کو یقین دلا دیا کہ ایسی تو ہین اسلام کی ہمارے سامنے نہیں ہو سکتی اگر حکومت اپنا فرض ادا نہ کرتی تو میں اور میری قوم اپنے فرض کو ادا کرتے۔آتھم کی آمد آتھم کی آمد کے متعلق گاڑی ۱۵ اور ۲ بجے صبح کو فیروز پور سے آتی تھی ( براہ لا ہور ) جماعت کے اکثر افراد میرے ہی مکان پر رات بھر بیدار رہے اور دعاؤں میں مصروف۔اور دوسرے دن کے پیش آنے والے واقعات کے منتظر اور لوگوں کے سوالات کے جوابات کے لئے غور و فکر کرتے رہے۔لوگوں کے اعتراضات کا ایک متفقہ جواب طے کرلیا کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔کس طرح پر پوری ہوئی قادیان سے اطلاع آنے کا انتظار کرو۔خاکسار عرفانی اور بعض دوسرے دوست اسٹیشن پر پہنچے۔وہاں بڑا مکمل انتظام تھا پولیس کا پہرہ تھا۔اور خود عیسائی نوجوان لاٹھیاں لئے ہوئے ایک صف بندی کر کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے تھے۔راقم الحروف کو عیسائی بھی اور پولیس اور اسٹیشن کے بعض افسر جانتے تھے میں آگے بڑھنے لگا تو روکنا چاہا مگر میں نے کہا کہ آتھم صاحب زندہ آرہے ہیں تو سب سے پہلا آدمی تو میں ہوں جس کو دیکھنا چاہیے اس لئے کہ پیشگوئی ہمارے مرشد نے کی ہے۔اس پر بعض لوگ ہنس بھی دیئے۔اور آخر منتظمین نے کہا آپ آجائیے۔مگر مہربانی کر کے ذرا دور رہیے۔میں نے کہا اتنی لاٹھیوں اور پولیس کے انتظام میں میرے جیسا آدمی جس کے پاس کوئی لکڑی بھی نہیں آتھم صاحب کو قتل نہیں کر سکتا۔آپ تسلی رکھیں۔پھر کچھ لطیفہ بازی ہوگئی۔آخر گاڑی آئی۔اور آتھم