حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 327 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 327

حیات احمد ۳۲۷ جلد چهارم دیوانے کتوں کا خوف اس کے لئے پریشانی کا موجب ہوتا۔اس خوف و دہشت نے اس کے سارے خاندان اور متعلقین کو پریشان کر دیا اور بعض اوقات اس سے یہ بھی کہا گیا کہ اتنا خوف غالب ہے تو کھلم کھلا مسلمان ہو جاؤ۔مگر وہ اس قسم کی باتوں کا جواب نہ دیتا۔۶ ستمبر کے واقعات ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء وہ آخری دن تھا جو اس پیشگوئی کے ظہور کے لئے مقرر تھا۔اور لوگ بے چینی سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگست کے مہینے میں آتھم کی نقل و حرکت اور اس کے متعلق حالات کو قطعی راز میں رکھا گیا۔لیکن ۵ ستمبر کو امرت سر کے عیسائیوں کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ آنتم زندہ ہے۔شام تک مسلمانوں کی مختلف ٹولیاں میرے پاس دریافت حال کے لئے آ رہی تھیں اور ہمارا جواب یہ تھا کہ پیشگوئی پوری ہوکر رہے گی۔۵ ستمبر کو رات کے 9 بجے کے قریب معلوم ہوا کہ صبح آٹھم امرت سر پہنچے گا۔اور عیسائیوں نے ایک کرایہ کے بے حیا کو ایک مکان واقعہ رام باغ میں لا کر رکھا ہوا ہے۔جس کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کیا جائے گا۔اور اعلان کے لئے ڈھول بجانے والے جمع تھے۔اس خبر سے مختصر جماعت احمدیہ کو بڑی تشویش ہوئی اور قرار پایا کہ اس واقعہ سے خان بہادر شیخ غلام حسن رئیس اعظم اور خان بہادر خواجہ یوسف شاہ کو آگاہ کر کے انتظام کیا جاوے۔چنانچہ ہم چار آدمی خاکسار عرفانی۔حضرت شیخ نور احمد صاحب۔حضرت میاں قطب الدین اور میاں نبی بخش۔خان بہادر غلام حسن صاحب کے پاس گئے ان کا ایک قسم کا دربار ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے فضل کرے ان کے دل میں اسلام کے لئے غیرت اور مسلمانوں کے لئے ہمدردی کے بے پایاں جذبات تھے اور ان جذبات نے ہمدردی ءِ عامہ کے جذبات کو کبھی مجروح نہ کیا تھا۔اس معاملہ میں ہندو مسلمان کی تمیز ان کے دل کے کسی گوشہ میں نہ تھی اور یہ اس خاندان کا طرہ امتیاز تھا۔غرض ہم نے اس واقعہ کو سنایا تو بے اختیار ہو گئے اور کہا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔میں اس کا