حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 324 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 324

حیات احمد ۳۲۴ جلد چهارم سر الخلافة یکم محرم ۱۳۱۲ (۵) جولائی ۱۸۹۴۷ء) کو شائع ہوئی تھی اسی کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا تھا۔۱۸۹۴ء کے برکات میں ایک عظیم الشان نشان یوں تو ہر نیا دن آپ کی تائید و نصرت کے نشانات لے کر آتا تھا مگر ۱۸۹۴ء میں ایک عظیم الشان نشان آسمان پر ظاہر ہوا اور اس نشان نے نہ صرف آپ کی صداقت کا اعلان کیا بلکہ سید الا نام سید الاولین والآخرین حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پورا کر کے آپ کی صداقت کا بھی اعلان کیا۔یہ نشان کسوف و خسوف رمضان کا نشان ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی معہود کی بعثت کا ایک نشان قرار دیا تھا کہ اس کے وقت میں رمضان میں چاند گرہن اور سورج گرہن واقع ہوگا۔اور یہ ہمارے مہدی کا نشان ہے اور اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔چنانچہ دار قطنی میں حضرت امام باقر علیہ السلام کی روایت ہے۔اور امام بیہقی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”بے شک ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں جو کسی دوسرے کے لئے کبھی نہیں ہوئے جب سے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ رمضان میں۔چاند گرہن اس کی پہلی رات میں ہوگا۔اور اسی ماہ رمضان میں سورج گرہن اس کے درمیانی دن میں ہوگا۔“ ۱۸۹۴ء کے رمضان میں (جو ۱۰ مارچ ۱۸۹۸ء کو شروع ہوا اور ۷ اپریل ۱۸۹۴ء کو ختم ہوا) مقررہ اوقات میں چاند گرہن اپنی مقررہ راتوں ۱۳۔۱۴۔۱۵ میں سے پہلی رات ۱۳ کو واقع ہوا۔اور سورج گرہن اپنے مقررہ دنوں ۲۷۔۲۸۔۲۹ کے درمیانی دن ۲۸ / رمضان کو واقع ہوا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس نشان کے پورا ہونے سے عام طور پر علامات مہدی